کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 96
عَلٰی قَلِیْبِ بَدْرٍ فَقَالَ: ھَلْ وَجَدْتُّمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا۔ ثُمَّ قَالَ: إِنَّھُمُ الْآنَ یَسْمَعُوْنَ مَا أَقُوْلُ لَھُمْ۔ فَذُکِرَ لِعَائِشَۃَ ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم : إِنَّھُمُ الْآنَ لَیَعْلَمُوْنَ أَنَّ الَّذِیْ کُنْتُ أَقُولُ لَھُمْ ھُوَ الْحَقُّ۔ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ المَوْتٰی حَتّٰی قَرَأَتِ الْآیَۃَ۔)) [ ’’ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: تمہارے مالک نے جو تم سے وعدہ کیا تھا کیا وہ تم نے پالیا۔ پھر فرمایا: جواب میں کہہ رہا ہوں وہ سن رہے ہیں ۔ یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اس وقت وہ جانتے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ ٹھیک تھا۔ پھر یہ آیت پڑھی : بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ ] اب آپ ہی بتائیں کہ: ’’ ایسے سماع موتی کے اقراری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتائیں کہ کیا آپ ان کے نظریات سے متفق ہیں یا انہیں قرآن و حدیث کا انکار کرنے والے مانتے ہیں ؟ ‘‘ یہ سارے لفظ آپ کے ہیں ، صرف علماء کی جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ہے ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ بالا صحیح بخاری والی دونوں حدیثوں کا تقاضا یہی ہے۔ جواب ذرا سوچ سمجھ کر ارشاد فرمانا۔ رہا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان: (( إِنَّھُمُ الْآنَ لَیَعْلَمُوْنَ أَنَّ الَّذِیْ کُنْتُ أَقُولُ لَھُمْ ھُوَ الْحَقُّ۔ ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ المَوْتٰی حَتّٰی قَرَأَتِ الْآیَۃَ۔)) تو اسل سلسلہ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ فتح الباری میں لکھتے ہیں : (( ولم ینفرد عمر ولا ابنہ بحکایۃ ذلک ، بل وافقہما أبو طلحۃ کما تقدم ، وللطبرانی من حدیث ابن مسعود مثلہ بإسناد صحیح ، ومن حدیث عبداللّٰہ نحوہ ، وفیہ: قالوا: یا رسول ا للّٰه وھل یسمعون؟ قال: یسمعون کما تسمعون ، ولکن لا یجیبون۔ وفی حدیث ابن مسعود: ولکنھم الیوم لا یجیبون۔ ومن الغریب أن فی المغازی لابن اسحاق روایۃ یونس بن بکیر بإسناد جید عن عائشۃ مثل حدیث أبی طلحۃ ، وفیہ: ما أنتم بأسمع لما أقول منھم۔ وأخرجہ أحمد بإسناد حسن فإن کان محفوظا فکأنھا رجعت عن الإنکار لما ثبت عندھا من روایۃ ھؤُلاء الصحابۃ لکونھا لم تشہد القصہ۔ ۱ھ)) (۷ ؍ ۳۰۳ ۔ ۳۰۴) پھر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ میں ان کو سنا تا ہوں یا سنا رہا ہوں بلکہ یہ فرمایا: (( إِنَّھُمُ الْآنَ یَسْمَعُوْنَ مَا أَقُوْلُ لَھُمْ)) کہ وہ اب سن رہے ہیں جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ۔ اور واضح ہے انہوں نے