کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 95
امید ہے آپ محسوس نہیں فرمائیں گے۔ پھر سورۂ الشوریٰ کی محولہ بالا آیت کریمہ کے الفاظ: ’’ أَ لَآ إِلَی ا للّٰه تَصِیْرُ الْأُمُوْرُ ‘‘اس کا ترجمہ و مطلب آپ نے لکھا ہے: ’’ تمام امور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں ۔‘‘ جبکہ قرآنِ مجید کی اس آیت کریمہ کی ہم معنی و مطلب دیگر آیات کے الفاظ ہیں : ﴿ وَإِلَی ا للّٰه تُرْجَعُ الْأُمُوْرُ﴾ ’’ اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں ۔‘‘ [البقرۃ: ۲؍ ۲۱۰]﴿ وَإِلَیْہِ یَرْجِعُ الْأَمْرُ کُلُّہٗ﴾آپ ذرا مزید غور فرمالیں ۔ پھر ان آیات کریمہ میں اعمال کی کوئی تخصیص نہیں ۔ آخرت کی بھی کوئی تخصیص نہیں تو اگر کوئی صاحب ان آیات کریمہ کے عموم کو سامنے رکھتے ہوئے فرمادیں کہ جج صاحبان کے ہاں جو کاغذات پیش کیے جاتے ہیں یا دوسرے محکموں میں کاغذات وغیرہ کی جو پیشیاں ہوتی ہیں یہ سب سورۂ الشوریٰ کی آیت نمبر: ۵۳ کہ: ’’ تمام امور اللہ کے حضور پیش ہوتے ہیں ۔‘‘ کے منافی و مخالف ہیں تو کیا خیال ہے آپ کی تحقیق کی رو سے ان کی یہ بات درست ہوگی؟ 5۔سماع موتی و احیاء کے متعلق میرا عقیدہ وہی ہے جو قرآنِ مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح صحیح احادیث نے پیش فرمایا ہے۔ آپ لکھتے ہیں : ’’ ایسے سماع موتی کے اقراری علماء کے بارے میں بتائیں کہ کیا آپ ان کے نظریات سے متفق ہیں یاانہیں قرآن و حدیث کا انکار کرنے والے مانتے ہیں ۔‘‘ جواباً گزارش ہے صحیح بخاری ؍ کتاب الجنائز بَابُ الْمَیِّتِ یَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِمیں ہے: (( عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ: الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَتَوَلّٰی وَذَھَبَ أَصْحَابُہٗ حَتّٰی إِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ أَتَاہُ مَلَکَانِ ، فَأَقْعَدَاہُ۔))[ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مردہ اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی دفن سے فراغت کے بعد واپس ہوتے ہیں ، تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ، اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ۔‘‘ ](الحدیث، جلد اول ،ص:۱۷۸)صحیح بخاری ؍ کتاب المغازی ؍ باب قتل ابی جہل میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: (( فَقَالَ عُمَرُ یَا رَسُوْلَ ا للّٰه مَا تُکَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لاَ أَرْوَاحَ لَھَا؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم : وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُوْلُ مِنْھُمْ۔)) [ ’’ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ ایسی لاشوں سے گفتگو کرتے ہیں جن میں روح نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے۔ میں جو باتیں کر رہاہوں تم ان کو مردوں سے زیادہ نہیں سنتے۔‘‘ ] (جلد دوم ، ص:۵۶۶)اور صفحہ :۵۶۷ پر ہے: ((عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: وَقَفَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم