کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 91
’’اللہ جسے چاہتا ہے ، سنواتا ہے، مگر (اے نبی!) آپ ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں ۔ ‘‘ [فاطر: ۲۲] ’’ یعنی اس شخص سے زیادہ گمراہ اور کون ہے جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو آواز دے۔ حالانکہ وہ قیامت تک اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے۔ وہ تو ان کی پکار ہی سے غافل ہیں ۔‘‘ [الاحقاف:۶ ، ۵]سماع موتیٰ کا عقیدہ رکھنے سے درج بالا قرآنی آیات کا انکار ہوجائے گا۔ 6۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: تم دونوں مجھے رات بھر گھماتے پھراتے رہے.....میں جبریل ہوں اور یہ میرے ساتھی میکائیل ہیں ۔ ذرا اپنا سر اوپر تو اٹھائیے۔ میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے اپنے سر کے اوپر بادل سا دیکھا۔ ان دونوں نے کہا کہ یہ آپ کا مقام ہے۔ میں نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا مجھے چھوڑ دو۔ میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں ۔ ان دونوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر کا کچھ حصہ باقی ہے، جس کو آپ نے پورا نہیں کیا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پورا کرلیں تو اپنے اس گھر میں آجائیں ۔ صحیح بخاری جلد اول ، صفحہ نمبر: ۱۸۵ مطبوعۃ دہلی بقول آپ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ والی قبر میں زندہ ہیں ، لیکن بخاری صفحہ نمبر: ۶۴۰ ، ۵۱۷ میں درج ہے کہ نبی کی وفات کے موقع پر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! نبی کی وفات نہیں ہوئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میرے ذہن میں یہی بات آئی اور عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور زندہ کرے گا.....پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے.....اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اللہ آپ کو دو موتوں کا مزہ نہ چکھائے گا۔، پھر وہ باہر نکل گئے اور عمر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ اے قسم کھانے والے! اتنی تیزی نہ کر.....حمد و ثناء کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سن رکھو تم میں سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی کرتا تھا، اسے معلوم ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں .....اس کے بعد سورۂ آل عمران آیت:۱۴۴ تلاوت فرمائی.....عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! جس دم میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا تو گھٹنوں کے بل گر پڑا اور ایسا بے دم ہوا کہ میرے پاؤں مجھے سہارا نہ دے سکے ، یہاں تک کہ میں زمین کی طرف جھک گیا۔ جس وقت مجھے یہ یقین ہوگیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں ۔ ترجمہ عبارت صفحہ:۵۱۷ ، جلد اول، صفحہ ۶۴۰ ، جلد دوم، صحیح بخاری مطبوعہ دہلی۔ درج بالا دونوں حدیثوں کے مطابق آپ کا قول نہیں ہے ، وضاحت کریں ؟ القرآن:.....’’ آپ کو بھی موت آئے گی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں ۔ ‘‘ [الزمر:۳۰] جب سارے صحابہ کا اجماع ہوگیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آچکی ہے اور قیامت سے پہلے دوبارہ زندہ بھی نہیں