کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 859
کرتے ہیں پھر وہ جن گفتگو بھی کرتے ہیں کیا یہ حقیقت ہے؟ ۳۔ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی برابر ہے ، کیا اگر صرف ایک عورت ہی روایت کرے تو وہ روایت قبول کر لی جائے گی؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہرہ ورکاں ) ج: فرض اور واجب میں فرق کتاب و سنت میں تو کہیں بیان نہیں ہوا البتہ کچھ فقہائے کرام نے اپنی اصطلاح میں فرق کیا ہے چنانچہ مسلم الثبوت میں ہے: اگر طلب جازم قطعی دلیل کے ساتھ ثابت ہو تو فرض اور اگر طلب جازم ظنی دلیل کے ساتھ ہو تو واجب ۔‘‘ بعض نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’دلالت و ثبوت دونوں قطعی ہوں تو فرض اور دونوں سے کوئی ایک ظنی ہو تو واجب ۔‘‘ ۲۔ یہ سب باتیں درست و حقیقت ہیں ۔ کتاب و سنت میں ان کے دلائل موجود ہیں ۔ ۳۔ شہادت و گواہی اور روایت و خبر کچھ چیزوں میں برابر ہیں مثلاً عدالت و ضبط اور کچھ چیزوں میں برابر نہیں مثلاً عدد شہادت و گواہی میں بسیار اوقات تعدد ضروری ہے جبکہ روایت و خبر میں تعدد کسی وقت بھی ضروری نہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ﴾ [الحجرات:۶] [’’اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔‘‘]نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وََجَآئَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَی الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی قَالَ یَا مُوْسٰی إِنَّ الْمَلَأَ﴾ [القصص:۲۰] [’’شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا موسیٰ یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں ، پس تو بہت جلد چلا جا مجھے اپنا خیر خواہ مان۔‘‘]نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَجَآئَ تْہُ إِحْدٰھُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَآئٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِیْ یَدْعُوْکَ﴾ [القصص:۲۵] [’’ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا ء سے چلتی ہوئی آئی کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے ( جانوروں ) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اُجر ت دیں ۔‘‘] س: ہمارے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ نماز ، روزہ وغیرہ عبادت کی ظاہری شکلیں ہیں جبکہ ان کی باطنی شکل اصلاحِ معاشرہ ہے۔ اور اگر اصلاحِ معاشرہ نہیں ہوتا تو ان نمازوں کا کوئی فائدہ نہیں ، کیا یہ بات درست ہے؟ (ظفر اقبال ،نارووال) ج: شہادتین ، نماز ، زکوٰۃ ، رمضان کا روزہ اور حج اسلام کے بنیادی ارکان ہیں ۔ انسان و جن کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ﴾ [الذاریات:۵۶] [’’میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں ۔‘‘] اور عبادت کا مقصد