کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 852
اپنے اقوال اور اپنے اعمال کو قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث کے موافق بنانے کی کوشش کرتے ہیں ، خواہ وہ اہل اسلام کے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہوں وہ سب اہل حدیث ہیں خواہ وہ عوام ہوں خواہ خواص ، خواہ خاص الخواص۔ ہاں یہ بات بھی مسلم ہے کہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے مقلدین کا وجود ائمہ اربعہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے زمانہ سے پہلے کہیں بھی نہیں نہ برصغیر میں اور نہ ہی بر کبیر میں اور نہ ہی رب تعالیٰ کی تقدیر میں یا اللہ نہ فوت کرنا ہمیں کسی تقصیر میں فتوفنا مسلمین وألحقنا بالصالحین یا ربنا و رب العالمین۔ ۲۲؍۳؍۱۴۲۳ھ س: ہمارا اہل الحدیث کا دعویٰ ہے کہ تقلید شرک ہے اور مقلد مشرک ہے ، اور مشرک کی اقتداء میں ہم نماز پڑھنے سے سخت گریز کرتے ہیں کیونکہ مشرک کے تمام اعمال باطل ہیں ۔ کہیں ان کے مقتدی بننے کی وجہ سے ہمارے اعمال یعنی نمازیں باطل نہ ہو جائیں ۔ ہم یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں مشرک کے پیچھے نماز بالکل نہیں ہوتی ، تقلید شرک ہے چاہے کسی بھی امام کی ہو ، ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی بھی تقلید جرم ہے ، شرک ہے ۔ تقلید میں حنبلی ، حنفی ، شافعی ، مالکی سب برابر ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے جاتے ہیں اور نمازیں امام کعبہ اور امام مسجد نبوی کی اقتداء میں پڑھتے ہیں جبکہ وہ ائمہ مقلد حنبلی ہیں ، اور حج کا خطبہ جو ہے اس میں بھی شریک ہوتے ہیں ، ہماری نمازیں اور ہمارا حج کہاں جائے گا؟ (حافظ محمد امین اللہ ، حافظ آباد، چک چٹھہ) ج: حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی تمام کے تمام مقلد نہیں ۔ پھر اہل حدیث کہلوانے والے سب کے سب غیر مقلد نہیں بلکہ ان تمام گروہوں میں بعض تقلید کرتے ہیں اور بعض تقلید نہیں کرتے۔ میر ے نزدیک تقلید : ((قُبُوْلُ مَا یُنَا فِی الْکِتَابَ أَوِ السُّنَّۃَ))[’’قرآن و سنت کے منافی کو قبول کرنا۔‘‘]کا نام ہے ۔ نخبۃ الأصول میں لکھا ہے:((وَالتَّقْلِیْدُ لَا یَجُوْزُ کُلُّہُ مُفْضٍ إِلَی الشِّرْکِ بَعْضُہُ)) [’’تقلید مکمل طور پر جائز نہیں بعض تقلید شرک کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘]مولانا محمد سرفراز خاں صاحب صفدر اپنی کتاب ’’ الکلام المفید ‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’قارئین کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسئلہ تقلید کی نزاکت کے پیش نظر ٹھنڈے دل سے ساری کتاب کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کریں ، چند حوالوں کو یا کسی ایک ہی بحث کو پلے نہ باندھ لیں کیونکہ تقلید کی بعض قسمیں خالص شرک و بدعت او ر ناجائز ہیں ، ان کو جائز کہنے والا اور ان پر عامل کب فلاح پا سکتا