کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 851
رحمہم اللہ تعالیٰ کے اقوال کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں تو محترم ان کے جو اقوال کتاب و سنت سے ماخوذ ہیں وہ ان کے اپنے اقوال نہ رہے ان کے اپنے اقوال تو وہ بنیں گے جن پر کتاب و سنت کسی طرح بھی دلالت نہیں کریں گے۔ یہ درست ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحاحِ ستہ بخاری و مسلم وغیرہ کتب کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن و احادیث کی اطاعت اور اتباع کا حکم تو اللہ تعالیٰ نے بھی او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ إِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ﴾ [الاعراف:۳] [’’جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی اتباع کرو۔‘‘] نیز فرمان ہے: ﴿وَاتَّبِعُوْہُ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ﴾ [الاعراف:۱۵۸] [’’ اور اسی کی اتباع کرو اُمید ہے کہ تم ہدایت پا لو گے۔‘‘] نیز قرآن مجید میں ہے: ﴿قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ أَدْعُوْآ إِلَی اللّٰہِ﴾ [یوسف:۱۵۸] [’’کہہ دیجئے کہ میرا راستہ یہی ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔‘‘] نیز قرآن مجید میں ہے: ﴿وَأَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ذٰلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ [الانعام:۱۵۳] [’’اور یہی میری سیدھی راہ ہے لہٰذا اسی پر چلتے جاؤ اور دوسری راہوں کے پیچھے نہ جاؤ ورنہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی اللہ نے تمہیں انہی باتوں کا حکم دیا ہے ، شاید کہ تم بچ جاؤ۔‘‘] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن و احادیث کی اطاعت و اتباع کا اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں نے حکم دیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ سنن و احادیث صحاح ستہ میں آ جائیں خواہ صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب میں آ جائیں خواہ کسی کتاب میں بھی نہ آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائیں ۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ نے أو لو الأمر کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے؟ ٹھیک اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہی فرمایا ہے: ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ إِلَی ا للّٰه وَالرَّسُوْلِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ﴾ [النسآء:۵۹] [’’پھر اگر کسی معاملہ پر تمہارے درمیان جھگڑا ہو جائے تو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر دو۔‘‘] اور معلوم ہے کہ أو لو الامر میں تنازع واقع ہو چکا ہے اور بوقت تنازع أو لو الامر کی اطاعت کا حکم نہیں ، اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رد کرنے کا حکم ہے۔ ۴۔ یہ سوال بے بنیاد ہے کیونکہ ہر شخص کو علم ہے اہل حدیث کا وجود اس وقت سے ہے جس وقت سے قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث ہے ۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ تمام لوگ اہل حدیث ہیں جو اپنے عقائد ،