کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 85
وَھُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ ﴾[الأنعام:۱۰۳][ ’’ اسے کوئی نگاہ نہیں پاسکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے۔‘‘] میں کوئی منافاۃ نہیں ۔ حافظ ابن کثیر .....رحمہ اللہ العلیم الخبیر .....سورۂ نجم کی تفسیر میں لکھتے ہیں : (( وفی روایۃ عنہ أنہ أطلق الرؤیۃ ، وھی محمولۃ علی المقیدۃ بالفؤاد ، ومن روی عنہ بالبصر فقد أغرب ، فإنہ لا یصح فی ذلک شیء عن الصحابۃ رضی ا للّٰه عنہم وقول البغوی فی تفسیرہ: وذہب جماعۃ إلی أنہ رآی بعینہ ، وھو قول أنس والحسن وعکرمہ۔ فیہ نظر،واللّٰہ أعلم)) [ ’’ ابن عباس فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے۔ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا، جن لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے ، اس لیے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں ۔ امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے: انس اور حسن اور عکرمہ ۔ ان کے اس قول میں نظر ہے۔‘‘ مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: (امی) کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ’’ تیری اس بات پر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ تین باتیں کیا تو سمجھ نہیں سکتا جو شخص تجھ سے وہ بیان کرے وہ جھوٹا ہے۔ جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کو دیکھا تھا۔ اس نے جھوٹ بولا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿ لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ﴾ [انعام:۱۰۳] ﴿ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّکَلِّمَہُ ا للّٰه إِلاَّ وَحْیًا أَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍo﴾ [الشوریٰ:۵۱]اور جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل کو ہونے والی بات جانتے تھے اس نے بھی جھوٹ بولا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَا ذَا تَکْسِبُ غَدًا o﴾ [لقمان:۳۵] اور جو شخص تجھ سے یہ کہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے کچھ چھپا رکھا وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿ یٰٓأَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ أُنْزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ﴾بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دوبار دیکھا تھا۔‘‘[1] [1] بخاری ؍ کتاب التفسیر ؍ سورۃ النجم ح:۴۸۵۵ ، مسلم ؍ کتاب الایمان ؍ باب معنی قول اللّٰه (وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی) ح:۱۷۷