کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 849
۳۔ اللہ کا فرمان : ﴿اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ.....الخ﴾ دین حضور کے زمانے میں مکمل ہو چکا تھا ، پھر صحاح ستہ کی کیوں ضرورت پڑی اور حضوؐر نے صحاح ستہ ، بخاری و مسلم وغیرہ کے بارے میں کہاں حکم دیا کہ ان ائمہ کی جمع کی ہوئی حدیث پر عمل کرنا؟ ۴۔ اہل حدیث اپنا وجود بنارس شہر میں مولانا عبدالحق صاحب سے پہلے ،بھوپال میں نواب صدیق الحسن خانؒ سے پہلے ،دہلی میں نذیر حسین سے پہلے ،مدراس میں نظام الدین ؒ سے پہلے ،لاہور میں غلام نبی ؒ چکڑالوی سے پہلے ثابت کرکے دکھائیں ۔ یعنی انگریز کے برصغیر میں آنے سے پہلے کوئی اہل حدیث یا نماز کی کتاب دکھائیں جو اس دور سے قبل لکھی گئی ہو؟ (طارق ندیم ، اوکاڑوی) ج: آپ کو علم ہے کہ ہم علماء کرام کے اقوال اور اعمال کو دین میں حجت و دلیل نہیں سمجھتے وہ علماء کرام خواہ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہوں ، ہاں ان کی جو چیزیں کتاب و سنت کے موافق ہوں وہ لے لیتے ہیں ۔ اس لیے آپ خود غور فرمائیں جن علماء کرام کے فتاوی و اقوال آپ نے پیش کیے ان کے پیش کرنے سے حاصل؟ رہا آپ کا فرمانا:’’جبکہ آپ تقلید کو شرک کہتے ہیں ۔‘‘ ہم پر بہتان ہے کیونکہ ہم تو وہی بات کہتے ہیں جو نخبۃ الأصول میں لکھی ہے : ((وَالتَّقْلِیْدُ لَا یَجُوْزُ کُلُّہٗ مُفْضٍ إِلَی الشِّرْکِ بَعْضُہٗ)) ہمارے نزدیک تقلید کا مطلب مندرجہ ذیل ہے: ((قُبُوْلُ مَا یُنَا فِی الْکِتَابَ أَوِ السُّنَّۃَ)) اور یہ بعض تقلید کے شرک والی بات صرف ہم ہی نہیں کہتے بلکہ شیخ الحدیث مولانا محمد سر فراز خاں صاحب حنفی حفظہ اللہ تعالیٰ ’’الکلام المفید‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’قارئین کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مسئلہ تقلید کی نزاکت کے پیش نظر ٹھنڈے دل سے ساری کتاب کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کریں ، چند حوالوں کو یا کسی ایک ہی بحث کو پلے نہ باندھ لیں کیونکہ تقلید کی بعض قسمیں خالص شرک و بدعت او ر ناجائز ہیں ، ان کو جائز کہنے والا اور ان پر عامل کب فلاح پا سکتا ہے۔‘‘(ص:۲۰) ۲۔ ہمارے عوام اپنے علماء سے قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث پر پوچھ کر عمل کرتے ہیں اور قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث بذاتِ خود دلیل و حجت ہیں لہٰذا ہمارے عوام اپنے علماء کرام کے مقلد نہ ہوئے کیونکہ تقلید ((قُبُوْلُ مَا یُنَا فِی الْکِتَابَ أَوِ السُّنَّۃَ))کا نام ہے۔ اگر آپ کے نزدیک کسی سے قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن و احادیث پوچھ کر عمل کرنے کا نام تقلید ہے تو لازم آئے گا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ اور دیگر ائمہ ، مجتہدین رحمہم اللہ تعالیٰ بھی مقلد ہوں کیونکہ انہوں نے بھی قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنن و احادیث کو اپنے اساتذہ کرام رحمہم اللہ سے پوچھ ،