کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 843
(صحیح البخاری مع الفتح:۲؍۱۰۳) [1] ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں بلال کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے وہ ( فجر سے پہلے) رات کے وقت اذان دیتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ قیام کرنے والا ( سحری کے لیے) لوٹ جائے اور سویا ہوا اُٹھ جائے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان رات کے وقت (فجر سے پہلے) ہوتی ہے لہٰذا کھا پی لیا کرو یہاں تک کہ عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے۔ (تب کھانا پینا چھوڑ دیا کرو) وضاحت:.....ان دونوں روایتوں سے پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک اذان فجر سے پہلے ہوتی تھی جو حضرت بلال رضی اللہ عنہ دیتے تھے اور دوسری اذان طلوع فجر کے ساتھ ہوتی تھی جو ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے تھے۔ دونوں اذانیں بامقصد تھیں ۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سحری کھانے اور نمازِ تہجد کے وقت کے لیے ایک اعلان کی حیثیت رکھتی تھی جبکہ حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان کا مقصد طلوعِ فجر کی اطلاع دینا تھا۔ ان روایتوں کی جگہ بھی ماہِ رمضان کا نام نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ ان روایتوں کے تحت فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ یہ دو اذانیں سارا سال ہوتی تھیں ۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ خود رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے نفلی روزے رکھا کرتے تھے ، ہر ماہ تیرہ ، چودہ ، پندرہ تاریخ کا روزہ رکھتے ، سوموار ، جمعرات کا ہفتہ وار روزہ رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی ماہِ شعبان کے اکثر ایام میں اور ذوالحجہ کے ابتدائی عشرہ میں نفلی روزوں کا اہتمام فرماتے تھے بلکہ جب دل چاہتا روزے کا پروگرام بنا لیتے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تربیت یافتہ تھے ، وہ بھی فرضی روزوں کے علاوہ نفلی روزوں کے شوقین تھے اور پیش پیش تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے متعلق ہے کہ وہ داؤد علیہ السلام والے روزے رکھتے تھے یعنی ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھنا۔ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نفلی روزوں کا اہتمام کیا کرتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سہولت کی خاطر دو اذانوں کا اہتمام کیا گیا اور یہ اہتمام سارا سال ہی تھا کسی مخصوص ماہ کے لیے نہ تھا جیسا کہ عبارت روایت سے عیاں ہوتا ہے۔ ثانیاً:.....ایک ہی روایت میں دونوں اذانوں کا ذکر ہے اگر دوسری اذان آپ کے نزدیک سارا سال تھی تو پہلی اذان سارا سال کیوں تسلیم نہیں کی جاتی ۔ دونوں میں فرق کرنے کی کوئی علت و شہادت نہیں ملتی۔ فاعتبروا [1] بخاری؍کتاب الاذان؍باب الاذان قبل الفجر۔