کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 840
نے دیکھا صبح کی نماز میں آپ نے قنوت کیا ، دونوں ہاتھوں کو اُٹھایا ہوا تھا اور جنہوں نے آپ کے صحابہ کو شہید کر دیا تھا آپ ان پر بد دعا کر رہے تھے۔ (سنن بیہقی :۲؍۲۱۱) وضاحت:…دونوں قنوت ہیں ۔ دونوں نماز کے اندر ہیں ۔ ایک قنوت میں ہاتھ اُٹھانے کی وضاحت آ گئی تو دوسرے قنوت میں بھی اسی شکل کو ہی اختیار کرنا مناسب ہو گا۔ اس کی مثال یوں ہے کہ کسی بھی مرفوع صحیح حدیث میں نہیں آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ میں سبحانک اللھم پڑھا ہو یا تلقین فرمائی ہو اس کے باوجود فرض نماز کی طرح جنازہ کو نماز سمجھتے ہوئے ہم اور آپ بھی سبحانک اللھم پڑھ لیتے ہیں ۔ سوال نمبر۲:…کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ کی تمام تکبیرات میں رفع الیدین کرنے کا حکم فرمایا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نمازِ جنازہ کی تمام تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین فرمایا ہے؟ جواب:…حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازہ کی ہر تکبیر پر رفع الیدین کیا کرتے تھے۔(العلل لدار قطنی) اس روایت کے متعلق شیخ ابن باز فرماتے ہیں :’’ اس روایت کے تمام روات ثقہ ہیں ۔ عمر بن شبہ بھی ثقہ راوی ہیں ۔ بحوالہ حاشیہ فتح الباری :۳؍۱۹۰‘‘ اس روایت کے راوی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری مع الفتح :۳؍۱۸۹) سوال نمبر۳: …حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کس کس شہید صحابی کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھائی تھی؟ جواب:.....عبارتِ سوال سے واضح ہو رہا ہے کہ غیر شہید کی غائبانہ نمازِ جنازہ آپ تسلیم کر چکے ہیں لیکن تقلید کا پھندا عمل نہیں کرنے دیتا ہو گا جو دلیل غیر شہید کی ہے وہی دلیل شہید کی سمجھ لیجئے۔ (ب) یہ مسئلہ اہل علم کے ہاں مختلف فیہ ہے ۔ شہید کے جنازہ کے قائلین کے پاس جو دلائل ہیں ان میں سے صرف ایک روایت کو ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد پر اس طرح نماز ادا کی جس طرح آپ میت پر نماز ادا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری:۱؍۱۷۹) [1] واضح رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ نماز ادا کرنے کا واقعہ غزوۂ اُحد سے آٹھ سال بعد کا ہے۔ [1] بخاری؍کتاب الجنائز؍باب الصلوۃ علی الشہید