کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 837
مذہب میں مجتہدین : ان طرقِ مذکورہ کا نام تخریج تھا اور اسی کے متعلق کہا کرتے تھے کہ فلاں شخص نے قول کو اس طرح خارج کیا ہے یا فلاں مذہب کے موافق یا فلاں قاعدہ کے موافق یا فلاں شخص کے قول کے موافق مسئلہ کا جواب اس اس طرح ہے اور ان کے تخریج کرنے والوں کو مجتہدین فی المذہب کہتے تھے اور جس کا یہ قول ہے کہ جس نے مبسوط کو یاد کر لیا وہ مجتہد ہے اس سے وہی اجتہاد مراد ہے جو تخریج سے تعلق رکھتا ہے ۔ اگرچہ ایسے شخص کو روایت کا علم بالکل نہ ہو اور ایک حدیث بھی اس کو نہ آتی ہو اسی طرح ہر ایک مذہب میں تخریج واقع ہوئی اور اس کی کثرت ہو گئی ، اس کے بعد جس مذہب کے پیرو کار زمانہ میں مشہور ہو گئے اور قضاء اور فتویٰ ان پر مفوض ہوا ۔ ان لوگوں میں ان کی تصانیف مشہور ہو گئیں ۔ انہوں نے عام مواد پر درس دینا شروع کیا ، وہ مذہب اطرافِ عالم میں پھیل گیا اور ہمیشہ اس کی شہرت بڑھتی گئی اور جس مذہب کے پیرو گم نام ہوئے اور قضاء اور فتویٰ کی خدمت ان میں نہ رہی لوگوں نے ان میں رغبت نہ کی وہ چند روز بعد نابود ہو گیا۔ س: منکرین حدیث کا گروہ ایک فتنہ ہے ، مہربانی کر کے ناطقہ بند ٹھوس دلائل ارسال کر دیں ۔ (قاسم بن سرور) ج: اس کے لیے آپ سید مسعود بی ایس سی کی کتاب ’’تفہیم اسلام ‘‘ اور مولانا عبدالرحمن صاحب کیلانی کی کتاب ’’ آئینۂ پرویزیت ‘‘ کا خوب گہرا مطالعہ فرمائیں ، ان دونوں کتابوں میں ناطقہ بند ٹھوس قسم کے کافی دلائل آپ کو مل جائیں گے۔ ان شاء اللہ الحنان ۔ ۸؍۱۰؍۱۴۲۰ھ س: کیا حدیث وحی ہے؟ اس کے دلائل لکھیں ۔ ۲۔ کیا وحی کا اخفاء جائز ہے ؟ اس کے دلائل لکھیں ۔ ۳۔ قرآن مجید کی کسی آیت کو اس وجہ سے چھپانا کہ لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی جائز ہے؟ یا نہیں ؟ ۴۔ وحی کی تقسیم متلو اور غیر متلو کے حوالے سے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ۵۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ کاموں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ، کیا وہ وحی کے بغیر کیے گئے تھے یا ان کا کیا مقصد جیسے﴿ لِمَ تُحَرِّمُ…﴾[التحریم:۱][’’اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کر تے ہیں ۔‘‘] ، ﴿لِمَ اَذِنْتَ لَھُمْ…﴾ [التوبۃ:۴۳] [’’اللہ نے آپ کو معاف کیا ۔ تو نے انہیں کیوں اجازت دے دی بغیر اس کے کہ تیرے سامنے سچے لوگ کھل جائیں اور تو جھوٹے لوگوں کو بھی