کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 835
محدثین کے مقابلہ میں ان علماء کا پیدا ہونا جو روایت حدیث سے تو ڈرتے تھے لیکن فتویٰ دینے میں نہیں گھبراتے تھے: امام مالک، سفیان ثوری اور ان کے بعد ان محتاط لوگوں کے مقابلہ میں ایسے علماء بھی تھے جو مسائل بیان کرنے کو ناپسند نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی فتویٰ دینے میں ان کو کوئی باک تھا ، وہ کہتے تھے کہ دین کی بناء فقہ پر ہی ہے ، اس لیے اس کی اشاعت ضروری ہے ، یہ علماء حدیث بیان کرنے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ روایت پہنچانے سے خوف کھاتے تھے ، یہاں تک کہ شعبی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ورے کے لوگ روایت کے لیے مجھے زیادہ اچھے معلوم ہوتے ہیں اگر حدیث میں کوئی کمی و بیشی ہو گی تو اس کے ذمہ دار وہی لوگ رہیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ورے ہیں ۔ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں کہوں عبداللہ نے یہ کہا اور علقمہ کا یہ قول ہے ،اور ابن مسعود جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے تو ان کا چہرہ بدل جاتا تھا ۔ اس وقت وہ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی یا اس کی مثل فرمایا ہے اور عمر رضی اللہ عنہ نے جب انصار کی ایک جماعت کو کوفہ بھیجا تو ان سے فرمایا تم کوفہ کو جاتے ہو وہاں تم ایسے لوگوں سے ملو گے جوقرآن کو رقت سے پڑھتے ہیں ، وہ تمہارے پاس آ کر کہیں گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آئے ہیں ، تب وہ تم سے حدیثیں دریافت کریں گے ، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت بہت کم کرنا ۔ ابن عون کہتے ہیں شعبی کے پاس جب کوئی مسئلہ پیش ہوتا تو وہ بہت ہی احتیاط کیا کرتے تھے اور ابراہیم برابر اس میں گفتگو کرتے تھے ۔ ان تمام آثار کو دارمی نے روایت کیا ہے۔ احادیث کے ساتھ قلت اہتمام کا سبب: اس وجہ سے حدیث ، فقہ اور مسائل کو مدون کرنے کی دوسری طرز کی ضرور ت پڑی ، ا ن کے پاس اتنی احادیث اور آثار نہ تھے جن سے وہ لوگ فقہ کو ان اصولوں کے موافق مستنبط کر سکتے جن کو اہل حدیث نے پسند کیا تھا اور علمائے بلاد کے اقوال میں غور اور بحث میں ان کو کشادہ دلی نہ تھی اور اپنے اپنے اماموں سے متعلق ان کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ تحقیق کے بلند مقام پر فائز ہیں اور سب سے زیادہ ان کا میلان اپنے اساتذہ کی طرف تھا جیسے علقمہ کا قول ہے کہ کوئی عالم عبداللہ سے زیادہ قابل اعتماد نہیں اور ابو حنیفہ کا قول ہے کہ ابراہیم سالم سے زیادہ فقیہ ہیں اور اگر صحابیت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں کہتا کہ علقمہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ فقیہ ہیں ۔