کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 834
ابو داؤد اشعث بن سلیمان سجستانی: تیسرے مصنف ابو داؤد سجستانی ہیں ۔ ان کا قصد یہ تھاکہ ایسی احادیث جمع کی جائیں جن سے فقہاء استدلال کرتے ہیں ، فقہاء میں ان کا تذکرہ رہتا ہے اور علماء بلاد نے ان احادیث کو احکام کی بنیاد قرار دیا ہے ، اس مقصد کی بناء پر انہوں نے اپنی سنن کو تصنیف کیا اور اس میں صحیح ، حسن ، لین اور قابل عمل حدیثیں جمع کر دیں ۔ ابو داؤد کہتے ہیں کہ میں نے اس کتاب میں ایسی کوئی حدیث جمع نہیں کی ہے جس کے ترک کرنے پر سب کا اتفاق ہو جو حدیث ضعیف تھی اس کا ضعف اور جس حدیث میں کوئی خدشہ یا علت کی بات تھی اس کی وجہ علت ، صاف بیان کر دی ۔ حدیث میں خوض کرنے والا اس وجہ کو خوب سمجھ سکتا ہے ، ہر حدیث میں انہوں نے اس مسئلہ کو بیان کر دیا جسے کسی عالم نے مستنبط کیا تھا اور کسی کا وہ مذہب قرار پایا تھا اسی لیے غزالی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ مجتہد کے لیے ان کی کتاب کافی ہے۔ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی: چوتھے مصنف ابو عیسیٰ الترمذی ہیں ، انہوں نے شیخین بخاری و مسلم کے طریقوں کو پسندیدہ صورت میں جمع کر دیا جہاں ان دونوں نے صاف صاف بیان کیا یا ابہام رکھا تھا ، دونوں کو عمدہ شکل میں کر دیا اور اس لیے کہ ہر ایک صاحب مذہب کے مسائل کو مفصل بیان کر دیا اور ابو داؤد کے مقاصد کی بھی تکمیل کر دی ہے ، دونوں طریقوں کی جامعیت کے بعد ان پر یہ اضافہ کر دیا کہ صحابہ، تابعین اور فقہاء امصار کے مذاہب کو پورا پورا بیان کر دیا ، اس لیے ایک جامع کتاب کو انہوں نے ترتیب دے دیا اور لطیف انداز میں طرق حدیث کو مختصر کر دیا ، ایک طریقہ کا ذکر کر کے دوسرے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ہر ایک حدیث کی حالت بتا دی ہے کہ کونسی صحیح اور حسن ہے اور کونسی ضعیف یا منکر ہے اور ہر ایک حدیث کی وجہ ضعف بیان کر دی ہے تاکہ طالب حدیث کو اپنے مقصود میں پوری بصیرت حاصل ہو جائے اور جو احادیث قابل اعتماد نہیں ان کا پورا اندازہ کر سکے اور حدیث مستفیض اور غریب کی تصریح کر دی ، ہر ایک صحابی اور فقیہ کا مذہب نقل کر دیا ہے اور جس شخص کا نام معلوم کرنے کی ضرورت تھی اس کا نام بتا دیا اور جس کی کنیت کی ضرورت تھی اس کی کنیت بتا دی اور علماء میں سے کسی کی نسبت کوئی امر پوشیدہ نہیں رکھا ، اس واسطے علماء کا قول ہے کہ یہ کتاب مجتہد اور مقلد دونوں کو کفایت کرتی ہے۔