کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 833
میں اتصال یا علو اسناد کاوصف تھا یا ان کی روایت فقیہ نے فقیہ سے یا حافظ حدیث نے حافظ حدیث سے کی تھی یا اس کے علاوہ اور مطالب علمی ان میں مندرج تھے ، اس منصب کے محدثین میں ، بخاری ،مسلم ، ابو داؤد، عبد بن حمید ، ابن ماجہ ، ابو یعلیٰ ، ترمذی ، نسائی ، دار قطنی ، حاکم ، بیہقی ، خطیب ، دیلمی ،ابن عبدالبر اور ان کے ہم مثل لوگ ہیں ۔ مصنفین میں سب سے زیادہ عالم اور مشہور: میرے نزدیک وسعت علمی میں سب سے زیادہ نافع مصنف اور سب سے زیادہ مشہور تر چار اشخاص ہیں جن کا زمانہ قریب قریب ہے۔ ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری: سب سے اوّل ابو عبداللہ بخاری ہیں ان کی غرض یہ تھی کہ تمام ایسی احادیث کا مجموعہ خالص کر دیں جن میں صحیح ، مستفیض اور متصل ہونے کے اوصاف ہیں اور ان احادیث سے فقہ ، سیرت اور تفسیر کو مستنبط کریں ، اس لیے انہوں نے اپنی جامع صحیح کو تصنیف کیا اور جس شرط پر تصنیف کی تھی اس کو پورا کر دیا ، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایک صالح شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو محمد بن ادریس کی فقہ میں مشغول ہو گیا ہے اور میری کتاب کو تو نے چھوڑ رکھا ہے۔ اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1۔ آپ کی کونسی کتاب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صحیح بخاری اور مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے کہ صحیح بخاری کی مقبولیت اور شہرت ایسی ہوئی ہے کہ اس سے زیادہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم بن حجاج نیشا پوری: دوسرے مصنف مسلم نیشا پوری ہیں ۔ انہوں نے بھی یہی قصد کیا کہ متفق علیہ حدیثوں کو خالص کر دیں ، جن پر محدثین نے اتفاق کیا ہو اور وہ متصل مرفوع کے درجہ کی ہوں ، ان سے دینی احکامات مستنبط ہوسکیں اور یہ بھی انہوں نے قصد کیا کہ احادیث کو قریب الفہم کر دیں اور استنباط مسائل میں ان سے آسانی ہو سکے اس لیے انہوں نے نہایت مکمل ترتیب دی اور ایک ہی موقع پر ہر حدیث کے تمام طرق کو جمع کر دیا تاکہ نہایت صراحت کے ساتھ اختلاف متون اور تفرق اسانید کا اظہا رہو جائے تمام مختلف احادیث کو یکجا کر دیا تاکہ عربی زبان کے واقف کے لیے عذر کا کوئی موقع نہ رہے تاکہ وہ حدیث سے اعراض کر کے دوسری طرف متوجہ نہ ہو سکے۔