کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 832
اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، عطاء ، مجاہد اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے قول کو اختیار اور رد نہ کر سکیں ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے علاوہ۔ کوئی مسئلہ واقع نہیں ہو امگر اس طبقہ نے اس کے لیے حدیث یا اثر کو پا لیا: جب علماء نے فقہ کو ان قواعد کے لحاظ سے مرتب کر دیا تو ان مسائل میں سے جن میں قدماء نے کلام کیا تھا یا جو اس موجودہ زمانے میں پیش آئے تھے کوئی مسئلہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق کوئی حدیث مرفوع ،متصل ، مرسل یا موقوف صحیح یا حسن یا قابل اعتبار بہم نہ پہنچی ہو یا شیخین اور دیگر خلفاء یا قضاۃ اور فقہاء بلاد کے کسی اثر کا پتہ نہ لگایا ہو یا عموم و ایماء و اقتضاء سے اس کا سراغ نہ لگایاگیا ہو ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے علماء کے لیے سنت پر عمل کرنا آسان کر دیا۔ روایت و علم کے اعتبار سے احمد بن حنبل کا مقام اس طبقہ میں سب سے بڑا ہے: اس زمانہ کے علماء میں سے نہایت عظیم المرتبت اور وسیع الروایت حدیث سے سب سے زیادہ واقف فقہ میں سب سے زیادہ غائر النظر امام احمد بن حنبل تھے رحمہ اللہ تعالی۔امام احمد بن حنبل کے بعد اسحاق بن راھویہ کا مرتبہ ہے ۔ اس طریق پر فقہ کو ترتیب دینے کے لیے بکثرت احادیث و آثار جمع کرنے کی ضرورت تھی یہاں تک کہ امام احمد سے دریافت کیا گیا کہ فتویٰ دینے کے لیے ایک لاکھ حدیثیں کافی ہو سکتی ہیں انہوں نے کہا: نہیں ۔ پھر کہا گیا : پانچ لاکھ کفایت کر سکتی ہیں ؟ انہوں نے کہا: مجھ کو اُمید ہے کہ اتنی کفایت کر سکیں ۔ غایت المنتہی میں اس کو ذکر کیا ہے ۔ امام احمد کی مراد اس قول سے یہ ہے کہ فقاہت کے ساتھ فتویٰ دینے کے لیے اتنی حدیثیں کافی ہیں ۔ جمع حدیث کا دوسرا دور: پھر اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرا دور پیدا فرمایا۔ انہوں نے اپنے اصحاب کو دیکھا کہ حدیث کی محنتوں سے انہوں نے اور لوگوں کو فارغ کر دیا ہے ۔ فقاہت کا سامان کر چکے ہیں ، تفقہ میں انہی کے قواعد کا لحاظ رکھا اس لیے ان پچھلے لوگوں نے دوسرے فنون کا رُخ کیا ، صحیح حدیثوں کو بالکل ممیز کر دیا ، جو کبرائے اہل حدیث کے نزدیک متفق علیہ صحیح ہے ، مثلاً یزید بن ہارون ، یحییٰ بن سعید قطان ، احمد ، اسحق اور ان کے ہم رتبہ لوگوں نے ان کو صحیح مانا ۔ فقہ کے متعلق ان احادیث کو جمع کیا جن پر بلاد اسلامی کے علماء و فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی بنیاد قائم کی تھی اور جو حدیث جس درجہ کی مستحق تھی اس پر وہی حکم لگایا اور شاذ ونوادر حدیثوں کو جمع کیا جنہیں سابقین نے روایت نہیں کیا تھا اور ان طرق کا انکشاف کیا جنہیں قدماء نے طرق کے انداز میں بیان نہیں کیا تھا ، ایسی احادیث میں وہ حدیثیں بھی ظاہر ہوئیں جن