کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 831
فلاں شخص نے یوں فرمایا۔ قتادہ سے روایت ہے کہ ابن سیرین نے ایک شخص کے سامنے حدیث بیان کی تو اس نے کہا فلاں صاحب یوں کہتے ہیں تب ابن سیرین نے کہا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور تم اس پر کہتے ہو فلاں نے یوں کہا۔ جہاں قرآن آجائے وہاں کسی کی رائے کی کوئی قدر نہیں : اوزاعی سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھ دیا تھا کہ کتاب اللہ میں کسی کو رائے دینے کا حق نہیں ہے ، ائمہ صرف ان ہی اُمور میں رائے دے سکتے ہیں جن کا حکم قرآن میں نازل نہ ہوا ہو اور نہ ہی حدیث میں اس کا حکم ہو جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہو ، اس میں کسی رائے کو دخل نہیں ہے ۔ اعمش نے کہا ابراہیم کا یہ قول تھا کہ مقتدی امام کی بائیں جانب کھڑا ہو اکرے، میں نے سمیع زیّات سے بروایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ ابراہیم نے اسی کو اختیار کر لیا ، شعبی سے منقول ہے کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر مسئلہ دریافت کیا ، یحییٰ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کا یہ جواب دیا کرتے تھے ، اس نے کہا: آپ مجھے اپنی رائے بتائیں ۔ شعبی نے کہا تم اس شخص پر تعجب نہیں کرتے ۔ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے خبر دے رہا ہوں اور یہ مجھ سے میری رائے کے بارے میں سوال کر رہا ہے ۔ اللہ کی قسم ! مجھے راگ کا گانا اس سے بہتر لگتا ہے کہ میں اپنی رائے ظاہر کروں ۔ [1]یہ تمام آثار دارمی نے بیان کیے ہیں ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی موجودگی میں کسی کی رائے کا اعتبار نہیں : ترمذی [2]نے ابو سائب سے روایت کی ہے کہ ہم امام وکیع کے پاس تھے ، انہوں نے ایک شخص کو کہا جورائے کو دخل دیتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا۔ اشعار اونٹ کی دائیں جانب کوہان کو لوہے کی چیز سے زخمی کرنا ہے۔ اور ابو حنیفہ کہتے ہیں اشعار مثلہ ہے ۔ اس شخص نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ اشعار مثلہ ہے ۔ ابو سائب کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ وکیع یہ سنتے ہی اس شخص پر غصہ میں آگئے اور کہا : میں تجھے کہتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور تو کہتا ہے ابراہیم کا یہ قول ہے تو اس قابل ہے کہ تجھے قید کر دیا جائے اور جب تک اپنے قول سے باز نہ آئے رہا نہ کیا جائے۔ [1] سنن دارمی؍باب التورع عن الجواب فیما لیس فیہ کتاب ولا سنۃ۔ [2] جامع ترمذی؍ابواب الحج؍باب ما جاء فی اشعار البدن۔