کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 830
قاضی شریح کی طرف عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مکتوب: قاضی شریح سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو تحریر کیا تھا کہ قرآن میں سے جو حکم تجھے معلوم ہو تو اس کے موافق فیصلہ کرنا ایسا نہ ہو کہ لوگ تجھے اس سے دور رکھیں اور اگر ایسا مسئلہ پیش ہو جس کا حکم قرآن میں نہ ملے تو حدیث کی تلاش کر کے اس کے موافق فیصلہ کرنا اور اگر قرآن و حدیث میں اس کا حکم نہیں ہے تو اس قول کی طرف دیکھنا جس پر لوگوں نے اتفاق کیا ہو اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا اور اگر قرآن و حدیث میں اس مسئلہ سے خاموشی ہے اور تم سے اگلے لوگوں نے بھی اس میں سکوت کیا ہے تو دومیں سے ایک کو اختیار کرنا اگر چاہو تو اپنی رائے سے اجتہاد کرنا اور اگر چاہو تو اجتہاد کرنے میں تاخیر کرنا اور میں تمہارے لیے اس تاخیر کو پسند کرتا ہوں ۔ قضاۃ کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نصیحت: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں ہم پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ ہم کسی مسئلہ میں فتویٰ نہیں دیتے تھے نہ ہی ہم اس درجہ تک پہنچے تھے ، اللہ نے مقدر کیا تھا کہ ہم کو اس درجہ تک پہنچا دیا۔جسے تم دیکھتے ہو اس لیے آج سے جس کے سامنے کوئی فیصلہ پیش ہو تو وہ کتاب اللہ کے موافق ا سکا فیصلہ کرے ، اگر کتاب اللہ میں اس کا جواب نہ ہو تو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو اس کے موافق حکم دے ، پس اگر کتاب و سنت میں اس کا فیصلہ نہ ہو تو جیسا صالحین اُمت نے حکم دیا ہو اس کے مطابق حکم دے اور اپنی طرف سے نہ کہے کہ میں اس میں خوف کھاتا ہوں اور میں اسے پسند کرتا ہوں اس لیے کہ حرام و حلال واضح ہیں اور حلال اور حرام کے درمیان متشابہ اُمور ہیں اس لیے مشتبہ کو ترک کر کے یقینی کو اخذ کرے۔[1] ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ دینے کا انداز: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قاعدہ تھا جب ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا اور اس کا حکم قرآن میں ہوتا تو اسی کے موافق فیصلہ کرتے تھے ، اگر قرآن میں اس کا حکم نہ ملتا او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم ثابت ہوتا تو وہی بیان کر دیتے ورنہ جو ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے حکم دیا ہوتا وہ بیان کر دیتے اور اگر ان سے بھی کوئی حکم ثابت نہ ہوتا تو تب جا کر اپنی رائے سے اس کا جواب دیتے ۔[2]عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرمایا کرتے تھے کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے یا زمین میں دھنسا دے تم کہتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا اور [1] سنن دارمی؍باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔ [2] سنن دارمی؍باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔