کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 829
جب کسی مسئلہ میں کتاب و سنت سے نص نہ ملے: جب نہایت کوشش اور تتبع احادیث کے بعد اس مسئلہ میں حدیث نہیں ملتی تھی تو اس وقت صحابہ یا تابعین میں سے ایک جماعت کی اقتداء کرتے تھے اس میں انہیں کسی قوم یا کسی شہر کی قید نہ تھی جیسا کہ ان کے قدماء کا طریقہ تھا ایسی صورت میں اگر جمہور خلفاء اور فقہاء کا اتفاق تھا تو وہ اطمینان کافی کے قابل تھا اور اگر وہ مسئلہ مختلف فیہ ہوتا تو ایسے شخص کے قول کو ترجیح دیتے تھے جو علم و ورع ، کثرت ضبط یا اسے ان میں شہرت کی وجہ سے فوقیت ہوا کرتی تھی۔ اور اگر اس مسئلہ میں ایک ہی قوت کے دو قول ہوا کرتے تو وہ مسئلہ ذات القولین رہا کرتا تھا اور اگر ان اُمور کی تتبع متعذر ہوتی تھی تو اس وقت کتاب و سنت کی عام تعبیروں میں ان کے ایماء و اقتضاء میں غور کیا کرتے تھے اور جب دو مسئلوں میں ایک جیسی حالت ہوتی تھی تو مسئلہ کو نظیر مسئلہ پر محمول کر لیا کرتے تھے اس میں قواعد اُصولی کے پابند نہ تھے بلکہ جس طریقے سے اطمینانی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی اسی سے فیصلہ کر لیا کرتے تھے جیسا کہ تواتر کے لیے راویوں کی تعدادمیزان نہیں ہے بلکہ اس کے لیے میزان وہ یقین ہے جو لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جایا کرتا ہے صحابہ کے حالات میں ہم اُس معیارکا ذکر کر چکے ہیں ۔ یہ اصول متقدمین کے برتاؤسے مستخرج ہیں : اور یہ تمام اُصول متقدمین کے برتاؤ اور ان کی تصریحات سے مستخرج تھے۔ میمون بن مہران سے منقول ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو وہ قرآن میں اس کے دعوے کا جواب تلاش کیا کرتے تھے اور اگر قرآن میں اس کا جواب نہ ملتا اور اس کے متعلق ان کو کوئی حدیث معلوم ہوتی تو ویسا ہی فیصلہ کرتے اور اگر قرآن و حدیث سے وہ مسئلہ کا حل معلوم نہ کر سکتے تو باہر جا کر مسلمانوں سے دریافت کرتے کہ ایسا ایسا دعویٰ میرے سامنے پیش ہوا ہے تم میں سے کسی کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کیا تھا؟کبھی کبھا ایسا ہوتا کہ تمام لوگ بول اُٹھتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ فیصلہ فرمایا تھا تب وہ فرماتے الحمد للہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال محفوظ ہیں اور جب کسی طرح حدیث سے بھی مسئلہ کا حل معلوم نہ ہوتا تب معتمد اور عمدہ لوگوں کو جمع کرتے ان سے مشورہ لیتے جب کسی مسئلہ پر تمام کا اتفاق رائے ہو جاتا تو اس کے موافق فیصلہ کرتے تھے۔[1] [1] سنن دارمی؍باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔