کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 828
کبار محدثین کا طبقہ: اور اب اس طبقہ میں محدثین تقریباً چالیس ہزار احادیث کی روایت کرتے تھے ۔ امام بخاری کی نسبت یہ امر درست ہے کہ انہوں نے چھ لاکھ احادیث سے صحیح بخاری کو مختصر کیا ہے اور ابو داؤد کی نسبت بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ پانچ لاکھ احادیث سے انہوں نے اپنی سنن کو مرتب کیا ہے اور امام احمد نے اپنی مسند کو احادیث نبویہ کے پہچاننے کے لیے میزان قرار دیا ہے کہ جو حدیثیں اس مسند میں موجود ہیں اگرچہ ان کی روایت ایک ہی طریقہ سے ہو ان کے لیے کوئی نہ کوئی اصل ہے اور جو اس میں نہیں اس کی کوئی اصل نہیں ۔ اس طبقہ کے نامور علماء یہ ہیں : عبدالرحمن بن مہدی ، یحییٰ بن سعید قطان ، یزید بن ہارون ، عبدالرزاق ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، مسدد ، ہناد ، احمد بن حنبل ، اسحاق بن راھویہ ، فضل بن دکین ، علی بن مدینی اور ان کے دیگر ہم رتبہ محدثین۔ طبقات محدثین میں پہلا نمونہ: طبقات محدثین میں یہ پہلا نمونہ ہے جب محققین اہل حدیث نے فن روایت اور درجات حدیث خوب مکمل کر لیے تو اس کے بعد ان کی توجہ فقہ کی طرف مائل ہوئی ، انہوں نے جب دیکھا کہ بہت سی احادیث اور آثار فقہاء کے ہر ایک مذہب کے مخالف ہیں اسی وجہ سے متقدمین نے کسی خاص امام کی تقلید پر اتفاق نہیں کیا بلکہ انہوں نے احادیث نبوی صحابہ ، تابعین اور مجتہدین کے آثار کو تلاش کیا اور اوروں کے لیے انہوں نے ایسے قواعد کی بنیاد رکھی جن کو اپنے ذہنوں میں انہوں نے خوب راسخ کر لیا تھا ، میں تیرے لیے ان قواعد کو چند آسان تقریروں میں بیان کرتا ہوں : ترجیحی بنیادوں پہ اتباع کیے گئے قواعد: ان کا مسلک یہ تھا کہ جب تک کسی مسئلہ کا حکم قرآن سے ثابت ہو تو کسی دوسری چیز کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے اور اگر قرآن میں مسئلہ کا حکم مختلف الوجوہ ہو تو اس کا فیصلہ احادیث سے کرنا چاہیے اور جب قرآن میں انہیں کوئی حکم نہیں ملتا تھا تو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے تھے ، خواہ وہ حدیث مستفیض ہوتی جس پر فقہاء عمل کر چکے ہوتے یا کسی خاص شہر کے علماء یا کسی خاندان کے علماء یا کسی خاص طریقہ سے وہ مروی ہوتی ، خواہ صحابہ و فقہاء نے اس پر عمل کیا ہوتا یا نہ کیا ہوتا کسی مسئلہ میں جب انہیں کوئی حدیث مل جاتی تو اس کے بعد پھر اس کے مخالف کسی اثر یا کسی اجتہاد کا اتباع نہیں کیا کرتے تھے۔