کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 827
ان کے اس اہتمام سے وہ احادیث اور آثار مجتمع ہو گئے جو اس سے پہلے جمع نہ ہو سکے تھے اور ان کے لیے وہ سامان مہیا ہو گیا جو ان سے پہلے کسی کے لیے مہیا نہ ہوا تھا اور بہت سی حدیثیں ان کے پاس کثرت طرق سے جمع ہو گئیں حتی کہ ان کے پاس ایسی حدیثیں بکثرت تھیں جو سو سو طریقوں سے مروی تھیں بلکہ اس سے بھی زیادہ بعض طریقوں سے ان اُمور کا انکشاف ہو گیا جو دوسرے طرق میں نا معلوم تھے اور ان علماء نے ہر ایک حدیث کا درجہ معلوم کر لیا کہ کونسی حدیث غریب ہے اور کونسی مستفیض ہے اور حدیث کے متابعات اور شواہد میں غور کرنے کا انہیں خوب موقعہ میسر آیا اور انہیں بکثرت صحیح حدیثوں کا پتہ چل گیا جو پہلے اہل فتویٰ کے دور میں ظاہر نہ ہوئی تھیں ۔ زیادہ علم رکھنے والے اہل حدیث ہیں : امام شافعی نے امام احمد سے کہا کہ صحیح حدیث کا علم تمہیں ہم سے زیادہ ہے جو حدیث صحیح ہو وہ ہمیں بتا دیا کریں تاکہ میں اسی کو اپنا مذہب قرار دوں چاہے وہ حدیث کوفی ہو شامی ہو یا بصری ، اسے ابن ہمام نے نقل کیا ہے۔ امام شافعی نے امام احمد کو یہ بات اس لیے کہی کہ بہت سی احادیث ایسی ہی تھیں جسے صرف ایک ایک شہر کے راوی نقل کیا کرتے تھے۔ مثلاً وہ احادیث جنہیں صرف شام اور عراق کے محدثین روایت کیا کرتے ہیں بعض ایسی احادیث بھی تھیں جنہیں صرف ایک خاندان کے لوگ روایت کرتے تھے جیسے بریدہ کا نسخہ ابو بردہ کی روایت سے ابو بردہ نے اسے ابوموسیٰ سے روایت کیا ہے اور عمرو بن شعیب کا نسخہ اپنے باپ کی روایت سے اور ان کے باپ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے اور بعض صورتیں ایسی تھیں کہ بعض صحابہ قلیل الروایت اور گمنامی کی حالت میں تھے ان سے بہت کم لوگوں نے حدیث کو روایت کیا ، اس لیے ایسی حدیثوں سے عام مفتی غافل رہے تھے۔ اور ان کے پاس تمام شہروں کے فقیہ صحابہ و تابعین کے آثار جمع ہو گئے اور متقدمین کی حالت ہی یہ تھی کہ وہ صرف اپنے شہر اور اپنے درجہ کے لوگوں کی حدیثیں جمع کر سکتے تھے ، نیز پہلے علماء اسماء الرجال اور راویوں کے درجۂ عدالت کا اندازہ ان اُمور سے کر لیا کرتے تھے جو ان کو حالت کے مشاہدہ اور قرائن کے تتبع سے معلوم ہو جایا کرتے تھے لیکن اب اس طبقہ کے علماء نے اس فن میں نہایت غور کیا اور اسے مدون کر کے اور بحث و تفتیش کر کے ایک مستقل فن بنا دیا اور احادیث کے صحیح اور غیر صحیح قرار دینے میں باہم مناظرے کیے گئے اس طرح اس تدوین اور مباحث کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان حدیثوں کا فیصلہ ہو گیا جن کا متصل یا منقطع ہونا پہلے مخفی تھا۔