کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 826
نازل نہیں ہوئے کراھت مروی ہے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جابر بن زید سے کہا تھا تو بصرہ کے فقہاء سے ہے ہمیشہ فتوی قرآن ناطق یا سنت ماضیہ کے مطابق دینا اگر تو ایسا نہ کرے گا تو خود بھی ہلاک ہو جائے گا او روں کو بھی ہلاک کر دے گا۔ [1] ابو نضرہ کہتے ہیں جب ابو سلمہ بصرہ آئے تو میں اور حسن بصری ان کی ملاقات کے لیے گئے ، انہوں نے حسن بصری کے لیے فرمایا: حسن بصری آپ ہیں ؟ بصرہ میں تیری ملاقات سے زیادہ مجھے کسی کی ملاقات کا شوق نہیں تھا۔ اور یہ شوق اس لیے تھا کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ تو اپنی رائے سے مسئلہ کا جواب دیتا ہے آئندہ قرآن و حدیث کے علاوہ اپنی رائے سے فتویٰ نہ دینا۔[2] ابن منکدر فرماتے ہیں کہ عالم اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان واسطہ ہوتا ہے پس اسی لیے وہ اپنی نجات کا کوئی طریقہ تلاش کرے۔ [3] رائے سے فتویٰ دینے کی کراہت: امام شعبی سے سوال کیا گیا جب تم سے مسائل پوچھے جاتے تو تم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: تم نے اس کے واقف سے یہ بات دریافت کی ہے جب کسی شخص سے سوال کیا جاتا تھا تو وہ اپنے پاس والے عالم سے پوچھ لیتا تھا اس کا جواب دے ایسے ہی وہ شخص دوسرے کو کہتا اور آہستہ آہستہ پہلے عالم کی طرف انتہا ہو جایا کرتی تھی۔[4] امام شعبی کا قول ہے یہ علماء جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تجھے بیان کریں اس پر عمل کرو اور جو کچھ اپنی رائے سے کہیں اسے پائخانہ میں پھینک دو۔ [5] ان تمام آثار کو دارمی نے نقل کیا ہے۔ حدیث و آثار کی کتابت: اسی اہتمام حدیث کی وجہ سے بلاد اسلام میں حدیث و آثار کی تدوین شروع ہو گئی اور جا بجا کتابیں اور نسخے مرتب ہونے لگے ، اہل روایت میں سے کم ہی ایسے علماء تھے جن کی کوئی تصنیف نہ ہو اس وقت کی ضرورت نے ایسی حالت پیدا کر دی تھی کہ اس وقت کے بلند پایہ علماء نے تمام ممالک حجاز ، شام ، عراق ، مصر ، یمن اور خراسان میں سفر کیا اور کتابوں اور نسخوں کو متفرق موقعوں سے فراہم کیا ، غریب احادیث اور آثار نادرہ کی تلاش میں کافی خوض کیا ، [1] سنن دارمی؍باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔ [2] سنن دارمی؍باب الفتیاء و ما فیہ من الشدۃ۔ [3] سنن دارمی؍باب من ھاب الفتیاء و کرہ التنطع والتبرع۔ [4] سنن دارمی؍باب من ھاب الفتیاء و کرہ التنطع والتبرع۔ [5] سنن دارمی؍باب فی کراھیۃ أخذ الرأی۔