کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 825
کتاب الاعتصام .....کتاب و سنت کی پیروی کا بیان س: اہل حدیث کے اُصول کیا ہیں جیسا کہ احناف کے اُصول یعنی ادلۃ شرعیۃ ، کتاب و سنت ، اجماع ، قیاس اور استحسان وغیرہ ۔ اس طرح اہل حدیث کے اصول کیا ہیں ؟ (محمد بشیر الطیب ، کویت) ج: شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ ‘‘ میں ان اصولوں کو تفصیل سے ذکر فرمایا ہے ، آپ حجۃ اللہ سے المبحث السابع کا باب الفرق بین اہل الحدیث و أصحاب الرأی پڑھ لیں ، اطمینان ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ۔ اہل حدیث اور اہل رائے کے درمیان فرق تو جان لے کہ بے شک سعید بن مسیب زہری اور ابراہیم کے عہد میں اور مالک ، سفیان ثوری کے زمانہ میں اور ان کے بعد بھی ایسی قوم تھی کہ وہ دینی مسائل میں خوض بالرائے کو براسمجھتے تھے اور فتویٰ دینے اور مسئلہ کا استنباط کرنے میں بہت خائف رہتے تھے ، جب نہایت ہی ضرورت پیش آتی اور کوئی چارہ کار نہ ہوتا تو پھر استنباط کرتے تھے اور ان کا سب سے بڑا اہتمام یہ تھا کہ وہ حدیث کو روایت کر دیں ۔ رائے کے بارے سلف کے اقوال: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک بار کسی چیز کے بارے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ کسی ایسی چیز کو تیرے لیے جائز کر دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حرام کیا ہو یا کسی ایسی چیز کو حرام کر دوں جو اللہ تعالیٰ نے تجھ پر حلال کی ہو۔[1] معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! آزمائش کے آنے سے پہلے اس کی تفتیش نہ کرو ، مسلمانوں میں ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جب ان سے سوال کیا جائے گا اس کا مسکت جواب دیتے رہیں گے۔[2] اور اس کے قریب قریب عمر ، علی ، ابن عباس اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے ایسے مسائل میں گفتگو کرنا جو ابھی [1] سنن دارمی؍باب من ھاب الفتیا وکرہ التنطع والتبرع۔ [2] سنن دارمی؍باب من ھاب الفتیا وکرہ التنطع والتبرع۔