کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 82
۱۱۔معاملات کا بہتر بنانا۔ ۱۲۔مال کو فضول خرچی کے بغیر خرچ کرنا۔ ۱۳۔سلام کا جواب دینا۔ ۱۴۔چھینک کا جواب دینا۔ ۱۵۔لوگوں سے تکلیف کو دور کرنا۔ ۱۶۔فضول اور بے ہودہ کاموں سے پرہیز کرنا۔ ۱۷۔راستہ سے تکلیف کو ہٹانا۔ان کا مجموعہ۶۹ بن جاتا ہے۔][1] ۱۶ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۳ھ [ایمان کی 77 شاخوں کی تفصیل] اللہ تعالیٰ سورۃ النساء میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ﴿یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ الْکِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوْلِہٖ﴾ [النسآء:۱۳۶] ’’ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لاؤ اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی ہے۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کونسا عمل افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان باللہ سب اعمال سے افضل ہے۔ (بخاری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں ، سب سے اعلی شاخ لا الٰہ الا اللہ کی گواہی ہے اور سب سے ادنیٰ لوگوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا ہے۔ (بخاری) ایک اور حدیث میں ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا: ’’ایمان کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں ، تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان رکھنا۔ مندرجہ بالاآیات و احادیث میں ایمان کی چار بڑی شاخوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے؟ ایمان کا مطلب ہے کہ دل سے کسی چیز کو اٹل حقیقت مان لینا اور اس میں کسی قسم کا شک اور تردد نہ ہونا اور یہ پختہ عقیدہ ہوکہ اس دینی سچائی پر عمل میں ہی نجات ہے۔ اسے تسلیم نہ کرنے سے کفر لازم آتا ہے۔ اَ لْإِیْمَانُ یَزِیْدُ وَ ینْقُصُکہ ایمان میں کمی بیشی (اعمال کے مطابق) ہوتی رہتی ہے۔ ایمان کی تشریح علمائے سلف نے یوں کی ہے۔ اقرار باللسان، تصدیق بالقلب و عمل بالجوارح۔ زبان سے اقرار ، دل کے ساتھ تصدیق اور اعضاء کے ذریعہ عمل۔ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے ترجیح صالح اعمال کو دے کر پھر انہیں [1] فتح الباری؍کتاب الایمان، ج:۱