کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 812
۴۔ (النعلین) وہ ہے کہ اس نے جوتے جورابوں کے اوپر پہنے ہوں اور جورابوں پر مسح کو سلف کی ایک جماعت نے جائز قرار دیا ہے اور شہروں کے فقہاء کا ایک گروہ اس کی طرف گیا ہے ان سے سفیان ثوری ، احمد اور اسحاق ہیں اور مالک ، اوزاعی اور شافعی نے کہا جورابوں پر مسح جائز نہیں ۔ شافعی نے کہا مگر وہ جورابیں منعل ہوں جن میں مسلسل لگاتار چلنا ممکن ہو اور ابو یوسف اور محمد نے کہا ان پر مسح کر لے جب وہ موٹی ہوں شفاف نہ ہوں ۔ ۵؍ ۱۲؍ ۱۴۲۱ھ س: یہ ترجمہ فرما دیں : (( حدثنی عمارۃ بن غزیۃ قال سمعت ابا النضر یقول سمعت عروۃ ابن الزبیر یقول قالت عائشۃ زوج النبی فقدت رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم وکان معی علی فراشی فوجدتہ ساجدا راصاً عقبیہ مستقبلا باطراف اصابعہ القبلۃ فسمعتہ یقول اعوذ برضاک من سخطک و بعفوک من عقوبتک و بک منک اثنی علیک لا ابلغ کل ما فیک فلما انصرف قال یا عائشۃ اخذک شیطانک فقالت امالک شیطان؟ قال ما من آدمی الا لہ شیطان فقلت و انت یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم قال وانا لکنی دعوت اللّٰه علیہ فاسلم))۔ (صحیح ابن خزیمۃ جلد اوّل ص:۳۲۸) ۲۔ یہ ترجمہ فرما دیں : (( قال معاذ بن جبل یا معشر العرب کیف تصنعوں بثلاث دنیا تقطع اعناقکم وزلۃ عالم و جدال منافق بالقرآن فسکتوا فقال اما العالم فان اھتدی فلا تقلدوہ دینکم و ان افتتن فلا تقطعوا منہ اناتکم فان المومن یفتتن ثم یتوب، و اما القرآن فلہ منار کمنار الطریق لا تخفی علی احد فما عرفتم منہ فلا تسالوا عنہ و ما شککتم فکلوہ الی عالمہ و اما الدنیا فمن جعل اللّٰه الغنی فی قلبہ فقد افلح ومن لا فلیس بنافعتہ دنیاہ)) (جامع بیان العلم و فضلہ ص:۲؍ ۱۱۱) ۳۔ اس کا ترجمہ فرما دیں اور یہ بتلا دیں یہ اصول درست ہے۔ (( لقولہ علیہ السلام لکم الاحادیث من بعدی فاذا روی لکم حدیث عنی فاضوہ علی کتاب اللّٰه تعالیٰ فما وافق فاقبلوہ و ما خالف فردوہ))(توضیح التلویح ص:۲۲۹قدیم) ۴۔ ((ولا بی حنیفۃ رحمہ ا للّٰه انہ علیہ السلام کان یصلی بعد العشاء أربعا))