کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 811
۳۔ (( الجذع عند اھل اللغۃ من الشاۃ ما تمت لہ سنۃ و بلغت فی الثانیۃ و من البقر ابن سنۃ و من الابل ابن اربع سنین و فی اصطلاح الفقہاء الجذع من الضان ما تمت لہ ستۃ شہر و ھوا الراجح عند الحنفیۃ وقال بعضھم ما تمت سبعۃ اشھر وقیل ستۃ او سبعۃ والتقیید بالضان لان الجذع من الابل والبقر والغنم لا یجزء منھا الا الثنی)) (تعلیق الممجد:۲۸۰) الجذ ع کی تعریف اگر درست ہے تو ترجمہ فرما دیں ورنہ نہیں ۔ ۴۔ (( النعلین) ھوان یکون قد لبس النعلین فوق الجوربین فقد اجاز المسح علی الجوربین جماعۃ من السلف و ذھب الیہ نفر من فقہاء الامصار منھم سفیان الثوری و احمد و اسحاق و قال مالک والاوزاعی و الشافعی لا یجوز المسح علی الجوربین قال الشافعی الا اذا کانا منعلین یمکن متابعۃ المشي فیھما و قال ابو یوسف و محمد یمسح علیہما اذا کانا ثخینین لا یشفان)) (طاہر ندیم) ج: ((اطلبوا العلم ولو بالصین)) بے اصل ، موضوع اور باطل روایت ہے ۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : سلسلۃ احادیث الضعیفہ للمحدث الألبانی رحمہ اللّٰه تعالیٰ (۱؍ ۶۰۰، ح:۴۱۶) ۲۔ سبیلین کے علاوہ بدن کے کسی حصہ سے نکلنے والے خون سے جو وضوء کرنے کے قائل نہیں ان میں سے طاؤس ، یحییٰ بن سعید الانصاری اور ربیعہ بن ابی عبدالرحمن بھی ہیں ، ابن عبدالبر نے استذکار میں ایسے ہی کہا ہے اور عینی نے بنایہ میں ذکر کیا کہ یہ ابن عباس ، عبداللہ اور جابر رضی اللہ عنہم کا قول ہے ۔ (شاید جابر بن عبداللہ ہے) ۳۔ جذع اہل لغت کے ہاں بکری اور بھیڑ کی جنس سے وہ ہے جس کی عمر ایک سال پوری ہو اور دوسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور گائے کی جنس سے دو سال کا اور اونٹ کی جنس سے چار سال اور فقہاء کی اصطلاح میں جذع بھیڑ کی جنس سے وہ ہے جو پورے چھ ماہ کا ہو اور یہی قول حنفیہ کے نزدیک راجح ہے اور ان کے بعض نے کہا سات ماہ کا اور کہاگیا ہے کہ چھ یا سات ماہ کا اور بھیڑ کی قید اس لیے ہے کہ اونٹ ، گائے او ربکری کی جنسوں سے جذع کفایت نہیں کرتا ، ان تینوں جنسوں سے صرف ثنی ( دو دانتا) ہی کفایت کرتا ہے۔ جذع کی تعریف میں اہل لغت کا مذکور بالا قول درست ہے ۔ فقہاء کی اصطلاح والی بات عجیب ہے کیونکہ کتاب و سنت میں شرعی معانی کا اعتبار ہے اگر الفاظ شرعی معانی رکھتے ہوں ورنہ لغوی معانی کا اعتبار ہے۔