کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 810
اعتماد لوگوں کی مخالفت پر ہے۔ میں کہتا ہوں اس خبر کو ابو داؤد نے نکالا اور اس پر خاموشی اختیار کی اور اس کو ابن حبان نے صحیح کہا اور ترمذی نے کہا: حسن صحیح ہے اور ابو قیس عبدالرحمن بن ثروان کو ابن معین نے ثقہ کہا ہے اور عجلی نے کہا ثقہ ثبت ہے اور ہزیل کو عجلی نے ثقہ کہا اور ان دونوں کی حدیث کو امام بخاری نے صحیح میں معاً نکالاپھر ان دونوں نے دوسرے لوگوں کی معارض مخالفت نہیں کی بلکہ ان دونوں نے تو دوسروں کی روایت کردہ چیز پر ایک زائد امر کو بطریقِ مستقل روایت کیا ہے جو معارض و منافی بھی نہیں تو محمول کیا جائے گا کہ وہ دو مستقل حدیثیں ہیں ، اسی لیے حدیث کو صحیح کہا گیاہے جیسا کہ پہلے گزرا۔ ۲۔اس کو احمد ، ابو یعلیٰ اور حاکم نے نکالا ، شعبہ کی حدیث سے سلمہ بن کہیل سے حجر ابو العنبس سے علقمہ بن وائل سے وہ اپنے باپ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غیر المغضوب علیہم ولا الضالّین پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو مخفی رکھا اور حاکم کے لفظ ہیں اپنی آواز کو پست کیا لیکن بلا شبہ حفاظ جن سے بخاری وغیرہ ہیں نے اجماع کیا ہے کہ شعبہ نے اپنی آواز کو پست کیا ، کہنے میں وہم کیا ہے لفظ تو صرف یہ ہیں کہ اپنی آواز کو لمبا کیا کیونکہ سفیان جو شعبہ سے زیادہ حفظ والے تھے اور محمد بن سلمہ وغیرھما نے سلمہ بن کہیل سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اس روایت کی علتوں کے اثبات میں زیلعی نے نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ میں اور ابن ہمام نے فتح القدیر میں اور ان دونوں کے علاوہ ہمارے اصحاب سے محدثین نے بسط و تفصیل سے کلام کیاہے۔ اور انصاف یہی ہے کہ جہراً آمین کہنا قوی ہے دلیل کے اعتبار سے اور اس کی طرف ابن امیر الحاج نے بھی اشارہ فرمایا ہے۔ ۳۔پھر احمد اور شافعی مرد کے اپنی بیوی کو غسل دینے کے جواز میں حجت پکڑتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا ۔ امام ابو حنیفہ کے رد میں ۔ ۱۳؍ ۷؍ ۱۴۲۲ھ س: علم حاصل کرو خواہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔ (کشف المحجوب، پہلا باب) کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ کتاب حدیث میں موجود ہے خواہ ضعیف ہی ہو؟ ۲۔ ((وممن کان لا یری فی الدماء الخارجۃ من غیر المخرجین الوضوء طاؤس ویحیی بن سعید الانصاری وربیعۃ بن ابی عبدالرحمن کذا قال عبدالبر فی الاستذکار و ذکر العینی فی البنایۃ انہ قول ابن عباس و عبداللّٰه و جابر)) اگر یہ علمی طور پر درست ہے کہ وضو نہیں ٹوٹتا تو ترجمہ فرما دیں ۔