کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 807
ج: .....مشکاۃ؍کتاب الایمان؍باب الکبائر و علامات النفاق ؍الفصل الثالث میں بحوالہ مسند احمد بیان ہوئی ہے ، اس کی سند میں عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر نامی راوی ہیں جن کا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ، بعض اہل علم لکھتے ہیں : ’’لم یسمع من معاذ‘‘ تو یہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی روایت بوجہ انقطاع ضعیف و کمزور ہے۔ س: جیسے ملا علی قاری کی کتاب (موضوعات کبیر)بڑے جھوٹ ‘‘ اس طرح کی کوئی ایسی کتاب بتائیں جس میں کمزور حدیثیں ہوں ، جنہیں پڑھ کر پتہ چلے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ کتاب کا نام درج فرمائیں ۔ ج: اس موضوع پر ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری کی کتاب ہی نہیں بلکہ اس موضوع پر ’’موضوعات ابن جوزی، العلل المتناھیہ ، تنزیہ الشریعۃ ، اللآلی المصنوعۃ ، الآثار المرفوعۃ ، المنار المنیف ، الفوائد المجموعۃ ، تذکرۃ الموضوعات ، المقاصد الحسنۃ اور سلسۃ الأحادیث الضعیفۃ‘‘ بھی ہیں ۔ ۲۵؍ ۶؍ ۱۴۲۳ھ س: نیک آدمی کی صحبت اختیار کرنے کی غرض سے کسی دیندار آدمی کی مریدی اختیار کرنے کا کیا حکم ہے؟تزکیۂ نفس کے لیے کسی صحیح العقیدہ صالح آدمی کا مرید بننا جائز ہے یا نہیں ؟ شیخ عبدالقادر جیلانی نے بھی پیری مریدی کی ترغیب غنیۃالطالبین میں دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شیخ کی مریدی اختیار کرنے سے آدمی اپنی منزل جلد پا لیتا ہے اور غلطیاں کرنے سے بچ جاتا ہے۔ وہ پیری مریدی کو استادی شاگردی کی سی اہمیت دیتے ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین ؍ فصل آداب المریدین) وہ اللہ کی محبت و رضا چاہنے اور اسی کے لیے کوشش کرنے والے کے لیے ایک معلم اور رہنما کے طور پر پیر کی ضرورت پر زور دیتے ہیں ۔(غنیۃ الطالبین) (وقار علی ، لاہور) ج: پیری مریدی اور استادی شاگردی دونوں درست ہیں بشرطیکہ مرید اپنے پیر کو اور شاگرد اپنے استاد کو اللہ تعالیٰ یا اللہ تعالیٰ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم یا اہل اسلام کے خلیفہ کے مقام و مرتبہ پر فائز نہ سمجھے اور نہ کرے۔ [’’کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ کتاب و حکمت اور نبوت دے یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر میر ے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔‘‘] ۶؍ ۴؍ ۱۴۲۴ھ س: محکمہ تعلیم میں ملازمت کرنا درست ہے یا نہیں ؟ جبکہ سکول کے نصاب میں شامل غیر شرعی چیزیں بھی بچوں کو پڑھانی اور یاد کروانی پڑتی ہیں اور ترانے وغیرہ بھی سننے پڑتے ہیں ، ان وجوہات کی بناء پر کیا اس کی ملازمت