کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 805
ھَارُوْنَ : وَلَمْ یَرْوِ شَرِیْکٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ إِلاَّ ھٰذَا الْحَدِیْثَ ، قَال: ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاہُ غَیْرَ شَرِیْکٍ)) (۱؍ ۲۲۸مع التحفۃ) [1] آپ نے دیکھ لیا کہ امام صاحب نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے اور تصریح فرمائی کہ ہمارے علم میں اس کو شریک کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا تو شریک صاحب امام صاحب کے نزدیک اس حدیث کو روایت کرنے میں متفرد ہیں اور امام صاحب شریک صاحب کو کثیر الغلط قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ باب جاء فی الوضوء مرۃ و مرتین و ثلاثا میں امام صاحب لکھتے ہیں :((وَشَرِیْکٌ کَثِیْرُ الْغَلَطِ)) [2] (۱؍ ۵۳مع التحفۃ) اور اہل علم جانتے ہیں کہ کثیر الغلط کی حدیث ناقابل احتجاج اور ضعیف ہوتی ہے۔ 2.....امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ’’جامع و سنن ‘‘میں لکھتے ہیں : (( بَابُ مَا جَائَ فِیْ مِقْدَارِ القُعُوْدِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ حَدَّثَنَا مَحْمُوْدُ بْنُ غَیْلَانَ نَا اَبُوْدَاوُدَ ھُوَ الطَّیَالِسِیُّ نَاشُعْبَۃُ أَنَا سَعْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَیْدَۃَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم إِذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الْأُوْلَیَیْنِ کَأَنَّہٗ عَلَی الرَّضْفِ ، قَالَ شُعْبَۃُ : ثُمَّ حَرَّکَ سَعْدٌ شَفَتَیْہِ بِشَیْئٍ فَأَقُوْلُ : حَتّٰی یَقُوْمَ : فَیَقُوْلُ : حَتّٰی یَقُوْمَ ، قَالَ أَبُوْ عِیْسٰی: ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ إِلاَّ أَنَّ أَبَا عُبَیْدَۃَ لَمْ یَسْمَع مِنْ أَبِیْہِ)) [3] (۱؍ ۲۹۱مع التحفۃ) امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ اس حدیث کو حسن بھی قرار دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ابو عبیدہ کے ان کے والد گرامی سے سماع کی نفی فرما کر اسے ناقابل احتجاج ، منقطع اور ضعیف بھی بنا رہے ہیں ۔ واللہ اعلم ۲؍ ۸؍ ۱۴۲۱ھ س: ایک عالم سے ملاقات ہوئی تو ان کا قول یہ ہے کہ اعتکاف جو ہے صرف تین مسجدوں میں ہی کر سکتے ہیں ۔ میں نے ان سے اس کی دلیل مانگی تو انہوں نے کہا : ((قال رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم لَا اِعْتَکَافَ إِلاَّ فِیْ ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ مسجد الحرام والمسجد الرسول والمسجد الاقصی))(رواہ البیہقی) کیا یہ حدیث صحیح ہے؟یا ضعیف ہے؟ ۲۔ اسی طرح ایک اور حدیث وہ یہ ہے کہ : ((قال رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم لَا یَحِلُّ لِثَلَاثَۃِ نَفَرٍ یَکُوْنُوْنَ [1] ترمذی؍کتاب الصلاۃ؍باب ما جاء فی وضع الرکبتین قبل الیدین فی السجود [2] ترمذی؍کتاب الطہارۃ؍باب ما جاء فی الوضوء مرۃ و مرتین و ثلاثا۔ [3] ترمذی؍کتاب الصلاۃ؍باب ما جاء فی مقدار القعود فی الرکعتین الاولیین۔