کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 800
[1] سکتی ہے تو اس عالم نے کہا نہیں ۔ اس نے اسے بھی قتل کر دیا ۔ اور اس طرح سو قتل کر دیے۔ پھر اس نے کسی اور عالم سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے تو اس نے کہا ہاں ۔تم فلاں بستی میں چلے جاؤ ، وہاں نیک لوگ رہتے ہیں ۔اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کر اور اپنے علاقے میں واپس نہ پلٹنا کیونکہ یہ برے لوگوں کا علاقہ ہے(یعنی ماحول تبدیل کر) وہ شخص ادھر چل پڑا۔ابھی راستے میں ہی تھا کہ اسے موت آ گئی۔ اس پر رحمت اور عذاب کے فرشتے آپس میں جھگڑنے لگے۔ ان سے ایک فرشتے نے انسانی شکل میں آکر کہاکہ اس کے دونوں طرف کی زمین ماپ لو۔ جس طرف کی زمین کم ہو گی اس کو ادھر والے فرشتے لے جائیں ۔ اور جب زمین ماپی گئی تو جس طرف وہ جا رہا تھا اس طرف کی زمین کم نکلی ، چنانچہ اسے بخش دیا گیا۔ آپ سے درخواست ہے کہ کیا واقعی یہ کوئی حدیث ہے؟ اور کیا قتل جیسا جرم بھی محض توبہ کی وجہ سے معاف ہو سکتا ہے؟ اُمید ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ (عصمت اللہ ،محمد منیر ، بیرون گیٹ کھیالی گوجرانوالہ) ج: خطبۂ جمعہ کے دوران خطیب صاحب سے جو حدیث آپ نے سنی وہ صحیح مسلم میں لفظ بلفظ موجود ہے ۔ نیچے وہ درج کی جاتی ہے: ((حدثنا محمد بن المثنی ، و محمد بن بشار ، واللفظ لابن المثنی ، قالا: نا معاذ بن ہشام ، حدثنی أبی عن قتادۃ عن أبی الصدیق عن أبی سعید الخدری رضی اللّٰه عنہ أن نبی اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قال: کان فیمن کان قبلکم رجل قتل تسعۃ و تسعین نفسا، فسأل عن أعلم أھل الأرض ، فدل علی راھب ، فأتاہ ، فقال: إنہ قتل تسعۃ و تسعین نفسا، فھل لہ من توبۃ؟ فقال: لا۔ فقتلہ ، فکمل بہ مائۃ، ثم سأل عن أعلم أھل الأرض فدل علی رجل عالم ، فقال: إنہ قتل مائۃ نفس فھل لہ من توبۃ؟ فقال: نعم ، ومن یحول بینہ و بین التوبۃ؟ انطلق إلی أرض کذا و کذا ، [1] بقیہ)کر لیں تو پھر ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے وصول کی جائے اور ان کے فقیروں میں تقسیم کی جائے گی اگر وہ اس کی بھی اطاعت کر لیں تو ان کے عمدہ مال پکڑنے سے پرہیز کرو اور مظلوم کی پکار سے بچتے رہو کیونکہ مظلوم کی پکار اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے (بہت جلدی قبول ہو جاتی ہے۔) [بخاری؍کتاب الزکاۃ؍باب اخذا لصدقۃ من الاغنیاء۔ مسلم؍کتاب الایمان ؍باب الدعاء الی شھادتین و شرائع الاسلام ۔ترمذی کتاب الزکاۃ؍باب کراھیۃ اخذ خیار المال فی الصدقۃ]