کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 799
نیز قرآن مجید میں ہے: ﴿اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ یَأْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَاھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَآئِثَ﴾ [الاعراف:۷؍۱۵۷] [’’جو لوگ ایسے رسول نبی اُمی کی پیروی کرتے ہیں جس کو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بُری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں ۔‘‘] صحیح بخاری میں حدیث ہرقل میں ہے: ((قَالَ: مَا ذَا یَأْمُرُکُمْ؟ قُلْتُ: یَقُوْلُ: اُعْبُدوا ا للّٰه وَحْدَہٗ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَاتْرُکُوْا مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَائُ کُمْ وَیَأْمُرُنَا بِالصَّلَاۃِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَۃِ)) [1] [’’کہنے لگا : وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتا ہے ؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو جن کی تمہارے باپ دادا عبادت کرتے تھے ان کو چھوڑ دو اور وہ ہمیں نماز ، سچائی ، پرہیز گاری ، پاکدامنی اور قرابت داروں سے حسن سلوک کا حکم دیتا ہے۔‘‘] ان آیات کریمہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ نماز وغیرہ اسلامی عبادات و اعمال کفار پر بھی فرض ہیں نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کفار کو دعوت بھی دیتے اور انہیں بھی ان چیزوں کی تبلیغ کیا کرتے تھے البتہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی حدیث [2]سے پتہ چلتا ہے کہ ان چیزوں کی کفار کو دعوت دینے اور تبلیغ کرنے میں ترتیب ہے پہلے توحید و رسالت ، پھر نماز ، پھر زکوٰۃ کی دعوت دی جائے۔ مگر اس ترتیب سے فرضیت کی نفی نہیں ہوتی اس کی مثال یوں سمجھئے وضوء اور نماز دونوں فرض ہیں مگر ترتیب وار پہلے وضوء پھر نماز ، اب اس سے کوئی نماز کی عدم فرضیت نکالے تو اس کا یہ خیال خام ہو گا۔ واللہ اعلم ۶؍ ۶؍ ۱۴۲۲ھ س: گزشتہ دنوں ہم نے ایک اہل حدیث مسجد میں جمعہ پڑھا۔اس میں مولانا صاحب نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص تھا جس نے ننانوے قتل کیے تھے ، پھر اس نے ایک عالم سے پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو [1] صحیح بخاری؍ کتاب بدء الوحی؍ باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم۔ [2] ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا:تم ان لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب (نصرانی) ہیں پس ان کو سب سے پہلے دعوت دو کہ گواہی دینا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور بلا شبہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو ( قبول کر کے) اطاعت کر لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اسے بھی تسلیم (