کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 798
س: حافظ صاحب کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ میرے علم و عمل میں اضافہ ہو جائے اور روحانی و قلبی سکون حاصل ہو۔ اور میرے حالات بھی سدھر جائیں اور میں دوسروں کی حق تلفی بھی چھوڑ دوں ۔(ایک سائل ، نیو یارک ، امریکہ) ج: آپ کے لیے مناسب ہے کہ آپ قرآن مجید ، صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، عمدۃ الاحکام ، اللؤلؤ والمرجان اور ریاض الصالحین با ترجمہ انگریزی یا اُردو جو آپ بخوبی سمجھ سکتے ہوں کہیں سے حاصل کر لیں اور روزانہ باقاعدگی سے ان کا مطالعہ کریں ان شاء اللہ الرحمن آپ کے علم و عمل میں اضافہ ہو گا نیز قلبی و روحانی سکون نصیب ہو گا ان شاء اللہ الحنان۔ آپ اس مطالعہ کو اپنی ذمہ داری قرار دے لیں اس طرح آپ دوسروں کی حق تلفی بھی چھوڑ دیں گے اور آپ کی طبیعت میں ایک قسم کی نشاط پیدا ہو گی ۔ ان شاء اللہ العزیز۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یٰٓـأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا ا للّٰه وَآمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ وَیَغْفِرْلَکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّ حِیْمٌ﴾ [الحدید:۲۸] [’’اے وہ لوگوجو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘] اس نسخہ پر عمل پیرا ہو جائیں ، آپ کے تمام حالات سدھر جائیں گے ۔ ان شاء اللہ سبحانہ و تعالیٰ۔ ۳؍ ۱؍ ۱۴۲۱ھ س: میرا ایک دوست ہے جو کہتا ہے کہ اہل کتاب یعنی عیسائیوں کو بھی نماز کی دعوت دینی چاہیے ، میں نے اسے کہا کہ نہیں بھائی پہلے انہیں کلمے کی دعوت دیں گے اور اگر وہ اس کو قبول کر لیں اور اس پر قائم ہو جائیں ، وہ کہتا ہے کہ نہیں بھائی کافروں پر بھی نماز فرض ہے ، اس لیے ان کو نماز کی دعوت بھی دینی چاہیے۔ براہِ مہربانی یہ وضاحت فرما دیں کہ آیا انہیں پہلے کلمے کی دعوت دیں گے یا نماز کی ؟ (سہیل بٹ ، گوجرانوالہ) ج: یہ بات درست ہے کہ نماز اور دیگر اسلامی عبادات و اعمال کفار پر بھی فرض ہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَo قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ o وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ o وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَائِضِیْنَo وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِo حَتّٰی اَتٰنَا الْیَقِیْنُ﴾ [المدثر:۴۲تا۴۷] [’’تمہیں دوزخ میں کس چیز نے ڈالا ۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز ی نہ تھے ۔ نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے ۔ اور ہم بحث کرنے والوں ( انکاریوں ) کا ساتھ دے کر بحث مباحثہ میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور روز جزا کو جھٹلاتے تھے ۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔‘‘]