کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 793
ایک غلام کو آزاد کرنا ہے اور جسے یہ طاقت نہ ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘] [المائدۃ:۸۹] ۲/۴/۱۴۲۴ھ س: ایک آدمی روزانہ چار نوافل پڑھنے کی نذر مانتا ہے اور اب وہ اس میں تکلیف محسوس کرتا ہے اور کبھی کبھی غفلت ہو جاتی ہے تو کیا وہ اپنی نذر کا کفارہ ادا کرکے اس نذر کو توڑ سکتا ہے؟ ج: نذر ماننے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اس کے باوجود اگر کوئی اطاعت و نیکی کی نذر مان لیتا ہے تو اسے پورا کرنا فرض و ضروری ہے ۔ پورا نہ کرنے کی صورت میں کفارہ لازم و فرض ۔ نذر کا کفارہ یمین والا کفارہ ہی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَکَفَّارَتُہ‘ٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ط وَ احْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْ ط ﴾ [المائدۃ:۸۹] [’’اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو ۔اور اپنی قسموں کا لحاظ رکھو ، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔‘‘] س: آپ فرماتے ہیں کہ نذر اطلاقاً منع ہے اگر مان لے تو پوری کرنی فرض ہے۔ اس سلسلے میں یہ عرض تھی کہ درج ذیل حدیث کی روشنی میں وضاحت طلب ہے: (( حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ الضَّبِیُّ حَدَّثَنَا الْمُغِیْرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم قَالَ لَا نَذَرَ اِلاَّ فِیْمَا یُبْتَغٰی بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ)) [’’نذر صرف ان چیزوں میں ہے جن سے اللہ کی رضا مطلوب ہو۔‘‘] اور دوسری روایت اس طرح تھی: (( اِنَّمَا النَّذَرُ فِیْمَا ابْتُغِیَ بِہٖ وَجْہُ اللّٰہِ)) (مسند أحمد،ح:۶۷۱۴،۲۷۳۳) پہلی روایت ابو داؤد/کتاب الایمان والنذور /باب الیمین فی قطیعۃ الرحم میں ہے۔