کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 787
کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ، تم اسے ناپسند کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو ، یقینا اللہ تعالیٰ بہت رجوع کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ [الحجرات:۱۲] اور فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ،انسان جو لفظ بھی بولتا ہے تو اس کے پاس ہی ایک نگران تیار ہے۔‘‘ [ق:۱۸] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ پسند نہ کرے۔‘‘ آپ سے پوچھا گیا : یہ بتلائیے کہ اگر میرے بھائی میں وہ چیز موجود ہو جس کا میں ذکر کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس میں وہ چیز موجود ہے جس کا ذکر تو کرے تو یقینا تو نے اس کی غیبت بیان کی اور اگر اس میں وہ بات نہیں ہے جو تو نے اس کے بارے میں کہی ہے تو پھر تو نے اس پر بہتان باندھا ہے۔‘‘ [1] وفد عبدالقیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ ہمیں ایسی قطعی بات بتلا دیں جس پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا ۔ ان کو حکم دیا کہ ایک اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جانتے ہو ایک اکیلے اللہ پرایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی معلوم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ اد کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مالِ غنیمت سے جو ملے اس کا پانچواں حصہ ادا کرنا۔‘‘][2] ۲؍۴؍۱۴۲۴ھ س: غیبت اور چغلی میں کیا فرق ہے؟ اور صدقہ اور خیرات میں کیا فرق ہے ؟ میرے کم علم کے مطابق تو غیبت اور چغلی ایک ہی ہیں اور صدقہ و خیرات بھی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں (قاری محمد یعقوب گجر) ج: غیبت کا مطلب ہے : ((ذکرک أخاک بما یکرہ)) [3] اس سے عام کہ غیبت کرنے والے کی غرض افساد فی الناس ہو یا نہ۔ اور نمیمہ و چغلی میں غرض افساد بین الناس ہوتی ہے۔ تو ہر نمیمہ و چغلی غیبت ہے ولا عکس ہر غیبت نمیمہ و چغلی نہیں تو دونوں میں عموص خصوص مطلق والی نسبت ہے۔ عربی کے اعتبار سے صدقہ خاص نیکی ہے ، جبکہ خیرات تمام نیکیوں اور خیرکے کاموں وغیرہ پر بولا جاتا ہے ۔ تو ہر صدقہ ، خیرات میں شامل ہے ۔ جبکہ تمام خیرات صدقہ نہیں ۔ اور اگر صدقہ کا معنی بھی ((کل معروف صدقۃ)) والا لے لیا جائے تو پھر دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔ البتہ ہمارے اُردو پنجابی عرف میں عام طور پر خیرات کا لفظ صدقہ [1] مسلم؍کتاب البر ؍باب تحریم الغیبۃ۔ [2] بخاری؍کتاب الایمان؍باب اداء الخمس من الایمان۔ [3] مسلم؍کتاب البر باب تحریم الغیبۃ۔