کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 78
ہم ایمان لاتے ہیں ، البتہ ان صفات کی حقیقت و کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ ج وَّھُوَ السَّمِیْعُ الْبِصِیْرُ﴾ [الشورٰی:۱۱] ’’کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ہے، اور وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ اس کی ذات ’’سمیع ‘‘ ہے اور ’’بصیر‘‘ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کا سننا مخلوقات کے سننے کی طرح نہیں ہو سکتا اور اس کا دیکھنا بھی مخلوقات کے دیکھنے کی طرح نہیں ہو سکتا۔ ہم اس کی حقیقت کا علم بھی نہیں پا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت بڑی اور بہت بلند ہے۔ عقل و تصور کی حدود: اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عنایت کی ہے۔ اسی عقل کے ذریعے وہ بہت ساری باتوں کو سمجھ لیتا ہے، اسی کے طفیل حق و باطل کی تمیز کرتا ہے، نفع و نقصان پہچانتا ہے اور انسان کی شرعی ذمہ داریاں عقل ہی کی بنیاد پر ہیں ۔ جو عقل سے محروم ہو جائے اس کا حساب کتاب نہیں لکھا جاتا ۔ اللہ تعالیٰ نے عقل کو بہت ساری صلاحیتوں سے نوازاہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت تصور عطا کی ہے، اس کے ذریعے وہ بہت ساری چیزوں کو سمجھ لیتا ہے۔ اس قوت تصور کے بل بوتے پر اپنے معاملات کو مرتب کرتا ہے اور مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے۔ لیکن قوت تصور ہے بہت کمزور اور بہت محدود۔ مثلاً کسی شہر کا نقشہ تمہارے سامنے بیان کیا جائے ، تمہیں کچھ چیزیں ضرور سمجھ آ جائیں گی اور ان چیزوں کا ایک تصور بھی تمہارے دماغ میں آ جائے گا ، لیکن جب کھلی آنکھوں سے اس شہر کو دیکھو گے تو محسوس ہو گا کہ جو کچھ تم نے سوچ رکھا تھا یہ اس شہر سے کہیں مختلف ہے۔ مثلاً ایک شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، یہ بات تو تمہیں سمجھ آ گئی کہ کسی آدمی نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے، لیکن تم اپنے تصور سے یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ دراصل دروازے پر کون ہے؟ وہ کتنا لمبا ہے؟ کتنا چوڑا ہے؟ اس کا رنگ کیسا ہے اور اس کا حجم کیا ہے؟ دروازے کی رکاوٹ کے باوجود تمہاری عقل نے یہ تو جان لیا کہ کوئی آدمی دروازے پر ہے اور اس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے، البتہ دروازے کی اوٹ کی وجہ سے تصور یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہا کہ دروازے پر موجود شخصیت کس قسم کی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی مثال تو بڑی عظیم ہے، چنانچہ عقل اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتی ہے، البتہ قوت تصور اس ذات کی