کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 775
ہوجائے اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ ‘‘ ] ۷ ؍ ۹ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ساس اپنے داماد سے پردہ کرے یا نہیں ؟ (عبدالصمد) ج: اس سلسلہ میں کتاب و سنت سے کوئی نص صریح مجھے معلوم نہیں ۔ ۲ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۴ھ س: زید نے مسمّاۃ ہندہ سے شادی کی۔ ہندہ کی حقیقی والدہ کی دو سوکنیں بھی ہیں کیا زید اپنی بیوی کی ان دو سوتیلی ماؤں کا بھی محرم سمجھا جائے گا اور اس سے ان دونوں کا پردہ ساقط ہوگا یا نہیں ؟ یعنی حقیقی ساس کی طرح ان دونوں سوتیلی ساسوں سے بھی اس کی محرمیّت ثابت ہوگی؟ (حفظ الرحمن) ج: زید اپنی بیوی ہندہ کی دو سوتیلی ماؤں کا محرم نہیں اور نہ ہی اس سے ان دونوں کا پردہ ساقط ہے ۔ لہٰذا وہ دونوں زید سے پردہ کریں گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأُمَّھَاتُ نِسَآئِکُمْ ط﴾ [النسآء:۲۳] [ ’’ حرام کی گئی تم پر تمہاری ساس۔ ‘‘ ] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِھِنَّ ط﴾ [النور:۳۱] [’’ اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے خاوند ، باپ ، خاوند کے باپ ، بیٹے اپنے شوہروں کے بیٹے، بھائی ، بھتیجے، بھانجے ، اپنی عورتیں یا غلاموں سے جن کی وہ مالک ہوں ۔ اپنے خادم مرد جو عورتوں کی حاجت نہ رکھتے ہوں اور ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف نہ ہوئے ہوں ۔ ‘‘] اس إلا کے منطوق و مفہوم پر غور فرمائیں اور مذکورہ بالا صورت میں پردے کا حکم فی الفور پائیں یہ ہے صراطِ مستقیم نہ دیکھیں دائیں بائیں ۔ تمام احباب و اخوان کی خدمت میں تحیۂ سلام ضرور پیش فرمائیں ۔ مسئلہ میں ہو کوئی خطا تو مجھے ضرور بتائیں ۔ واللہ اعلم۔ ۸ / ۵ / ۱۴۲۳ھ ٭٭٭