کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 774
ہے۔ ‘‘][1] 3۔آپ نے سوال الٹ کردیا ہے۔ ہاں ! چچا کی بیوی چچی اپنے خاوند کے بھتیجوں سے پردہ کرے گی اور یہ ہے بھی ضروری۔ نمبر ۲ اور نمبر۳ کی دلیل قرآنِ مجید کی آیت ہے: ﴿وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِھِنَّ أَوْ آبَآئِھِنَّ أَوْ آبَآئِ بُعُولَتِھِنَّ ط الخ﴾ [’’ اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہ ہوں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے ۔ اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔‘‘] ۳ ؍ ۶ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ہم ایک گھر میں رہتے ہیں اور بھابھی ہم سے یعنی دیوروں سے پردہ کرتی ہے کیا وہ ہم سے پردہ کرکے باتیں کرسکتی ہے کہ نہیں ؟ اور یہ بھی تفصیل سے بتائیں کہ وہ کوئی ضروری بات ہی کرسکتی ہے کہ عام ہنسی مذاق بھی کرسکتی ہے؟ اور کیا سسر کے بھائیوں سے اور ساس کے بھائیوں سے پردہ جائز ہے کہ نہیں ؟ یہ سب کچھ مکمل تفصیل سے بیان کریں سسر کے بھائیوں میں سے ایک اس کا پھوپھا ہے کیا اس سے بھی پردہ جائز ہے کہ نہیں ؟ (حافظ خالد محمود ، رینالہ خورد) ج: بھابھی دیوروں اور جیٹھوں سے پردہ کرے بوقت ضرورت پردہ میں رہ کر ان سے ضروری باتیں کرسکتی ہے۔ ہنسی مذاق اور فضول باتیں ان سے نہیں کرسکتی۔ عورت سسر کے بھائیوں ، ساس کے بھائیوں ، پھوپھا اور خالو سے پردہ کرے۔ سورۂ نور کی آیت: ﴿وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِھِنَّ ط﴾ الآیۃ پڑھ لیں ۔ [النور:۳۱] [’’ اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم [1] صحیح بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب لایخلون رجل بامرأۃ ، صحیح مسلم ؍ کتاب السلام ؍ باب تحریم الخلوۃ الاجنبیۃ