کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 773
أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِالْیَمِیْنِ وَاِذَا انْتَزَعَ فَلْیَبْدَأْ بِالشِّمَالِ لِتَکُنِ الْیُمْنٰی اَوَّلَھُمَا تُنْعَلُ وآخِرَھُمَا تُنْزَعُ۔)) [’’ تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو پہلے دایاں پاؤں ڈالے اور جب اتارے پہلے بایاں پاؤں نکالے، تاکہ دایاں پاؤں پہننے میں اول اور اتارنے میں آخر ہو۔ ‘‘ ] [1] ہمہ قسم کے جوتوں کو متناول ہیں جو تسموں والے جوتے مراد لیتے ہیں تخصیص کی دلیل ان کے ذمہ ہے۔ س: کھڑے ہوکر جوتے پہننے سے ممانعت والی روایات کیا قابل عمل نہیں ہیں ؟ اگر نہیں تو وجہ ضعف لکھیں ۔ اور معترضین کے اعتراضات کا بھی جواب دیں ۔ جن میں ایک اعتراض یہ ہے کہ ان روایتوں میں مدلس راوی ہیں ۔ لہٰذا یہ قابل عمل نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (محمد ابراہیم محمدیؔ ، سیالکوٹ) ج: شیخ البانی رحمہ اللہ اس حدیث کی تخریج کے بعد’’ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ‘‘ (۲؍۳۵۰) میں لکھتے ہیں : ’’ وخلاصۃ القول أن الحدیث بمجموع طرقہ صحیح بلاریب۔‘‘ سید محب اللہ شاہ صاحب راشدی کا حافظ زبیر علی زئی صاحب سے مکالمہ ’’ الاعتصام ‘‘ میں شائع ہوتا رہا ہے ، جس میں شاہ صاحب راشدی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ ۲۷ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۲ھ س: 1۔ کیا بھائیوں کا شادی کے بعد ایک گھر میں اکٹھا رہنا درست ہے؟ اگر اکٹھا رہیں تو پردہ کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اگر اکٹھے نہ رہیں تو والدین ناراض ہوں گے۔ 2۔کیا عورت کے لیے خاوند کے بھائیوں سے پردہ ضروری ہے؟ 3۔کیا چچی کو بھتیجوں سے پردہ کرنا چاہیے؟ اگر پردہ کرنا چاہیے تو پھر اکٹھا رہنا ممکن نہیں ۔ اگر اکٹھے رہیں تو پھر یہ پردہ ممکن نہیں ۔ (روح الامین ، بلتستانی) ج: 1۔ ہاں ! درست ہے، البتہ ان پر لازم ہے کہ پردہ و غیرہ شرعی احکام کی پابندی کے نظام کو درہم برہم نہ ہونے دیں ۔ اور والدین کو بھی راضی رکھیں ۔ 2۔ہاں ! عورت کے لیے خاوند کے بھائیوں ، دیوروں اور جیٹھوں سے پردہ ضروری ہے۔ [ ’’ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (غیر محرم) عورتوں کے پاس جانے سے گریز کرو، تو ایک آدمی انصاری نے کہا: شوہر کے قریبی رشتے دار کی بابت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: شوہر کا قرابت دار تو موت [1] صحیح بخاری ؍ کتاب اللباس ؍ بابٌ: یَنْزِعُ نَعْلَہُ الیُسْریٰ