کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 77
کتاب و سنت میں متعارف اَسماء وصفات باری تعالیٰ پر ایمان اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں خود اپنی ذات کا تعارف کروادیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ سارے اسماء حسنٰی اسی کے لیے ہیں اور صفات کمال کا وہ مالک ہے۔ کسی دوسرے کے لیے قطعًا ممکن نہیں تھا کہ جس تفصیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کروایا وہ اس سے بہتر تعارف کروا دیتا۔ اب کسی صاحب ایمان کے لیے ممکن نہیں رہا کہ جن جن صفات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو موصوف کیا ہے ان میں کوئی صفت کم کر سکے۔ ذات ربانی کی حقیقت کا پا لینا محال ہے: [ایک انگریز خاتون کا خاوند فضیلۃ الشیخ عبداللہ الحکیمی کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر چکا تھا۔ خاتون آکر شیخ سے بحث کرنے لگی۔ اس خاتون نے کہا:’’ میں اس وقت تک اللہ کو نہیں مانتی جب تک لمبائی چوڑائی کی حدود کے ساتھ اس کو دیکھ نہ لوں ۔‘‘ (استغفر ا للّٰه واتوب الیہ) الشیخ نے کہا:’’ یہ بتاؤ تم اپنے خاوند کے ساتھ محبت کرتی ہو؟‘‘ وہ کہنے لگی:’’ ہاں ‘‘ فضیلۃ الشیخ نے کہا:’’ میں نہیں مانتا۔‘‘ خاتون نے پوچھا:’’ کیوں ’آپ کیوں نہیں مانتے؟‘‘ فضیلۃ الشیخ نے کہا:’’ میں اس وقت تک نہیں مانتا کہ تم واقعتًا اپنے خاوند سے محبت کرتی ہو جب تک کہ میں یہ نہ دیکھ لوں کہ یہ محبت کیسی ہے؟ اس کا وزن کتنا ہے؟ اس کا رنگ کیسا ہے؟ یہ کتنی لمبی اور کتنی چوڑی ہے؟‘‘ خاتون نے کہا:’’ محبت تو موجود ہے، البتہ ہم اس کیفیت نہیں پا سکتے‘‘ فضیلۃ الشیخ نے کہا:’’ اللہ تعالیٰ کی مثال کہیں بلند ہے، ہم اس پر ایمان ضرورلاتے ہیں ، لیکن ہمارا علم اس کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ زندگی میں کتنی چیزیں ایسی ہیں جنہیں ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں ۔ یہ جو ہمیں نیند آتی ہے ہمیں خبر نہیں یہ کیسی ہوتی ہے؟ یہ کیسے پیدا ہوتی ہے؟ اسی طرح بیداری اور خوشی و مسرت کی حقیقت سے بھی ہم نا واقف ہیں ، بلکہ لوگوں کی بڑی اکثریت کو خبر ہی نہیں کہ بجلی کی کیا حقیقت ہے؟ حالانکہ وہ بجلی کو تسلیم کرتے ہیں ، اور یہی حال بہت سارے معاملات کا ہے۔‘‘ ] عقلی و نقلی دلائل سے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی مخلوق سے ہر اعتبار سے مختلف ہے۔ اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات بھی مخلوق سے مختلف ہوں ۔ تمام مخلوق ناقص صفات رکھتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کامل و مکمل صفات کے مالک ہیں ۔ خود اللہ تعالیٰ نے پوری تفصیلات سے ہمیں آگاہ کیا ہے۔ جن صفات کمال کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت میں ذات ربانی کو موصوف کیا ہے اس پر