کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 769
واضح ہو بعض احادیث میں غروروتکبر کی قید نہیں آئی اور بعض سطحی مطالعہ کے عادی افراد ان احادیث کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ ج: مجلہ ’’ البلاغ ‘‘ کے چند صفحات کی فوٹو کاپی آپ نے ارسال فرمائی ، اس فقیر إلی اللہ الغنی نے ان صفحات کو بغور پڑھا صاحب مضمون جناب غلام نبی صاحب کشافی حفظہ اللہ تعالیٰ نے وہ احادیث نقل فرمائیں جن میں اسبال ازار و ثوب کو مطلقاً مستوجب وعید قرار دیا گیا ان میں غرور و تکبر کی قید نہیں آئی، پھر لکھتے ہیں : ’’ لیکن جو شخص اس موضوع سے متعلق تمام احادیث کا گہرائی سے مطالعہ کرے گا تو اس کو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی کہ ان احادیث کے مطلق حکم کو ان احادیث کے مقید مفہوم پر محمول کیا جائے کہ جن میں غرور و تکبر کی قید لگائی گئی ہے۔ ‘‘ کشافی صاحب غرور و تکبر کی قید والی احادیث نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں : ’’ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غرور و تکبر کی بنا پر زمین پر سے ازار گھسیٹتے ہوئے چلنا گناہ کبیرہ ہے۔ بعض احادیث سے غرور و تکبر کے بغیر بھی ازار لٹکاتے ہوئے چلنے کی حرمت ثابت ہوتی ہے، لیکن ان احادیث میں غرور و تکبر کی قید سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ اسبال ازار (یعنی ازار لٹکانا) کے گناہ پر مطلق زجر و وعید والی احادیث کو ان احادیث پر محمول کیا جائے جن میں اسبال ازار کے ساتھ غرور و تکبر کی بھی قید لگائی گئی ہے۔ اس لیے محض لباس زمین پر گھسیٹ کر چلنا یا لباس کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام نہیں ہے ، جبکہ یہ عمل غرور و تکبر کے شائبہ سے پاک ہو۔ ‘‘ کشافی صاحب اپنی مندرجہ بالا تحقیق کی روشنی میں اپنے مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں : ’’ البتہ اگر کسی کا ازار بغیر غرور و تکبر کے عادتاً ٹخنے سے لٹکتا ہو وہ وعید کی زد میں نہیں آتا، نیز پھر اس کو مسئلہ بنانا اور اس پر مطلق حرمت کا فتویٰ صادر کرنا از روئے شرع درست نہیں ہے۔ ‘‘ ان کا کلام ختم ہوا۔ ماشاء اللہ تعالیٰ کشافی صاحب نے بات اصول و ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمائی ،کیونکہ عام و مطلق آیت یا حدیث کو خاص و مقید آیت یا حدیث پر ہی محمول کیا جاتا ہے ، مگر کشافی صاحب کے ذہن سے یہ بات اترگئی کہ یہ اصول و ضابطہ ہرجگہ نہیں چلتا۔ دیکھئے قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے دورانِ سفر نماز قصر کرنے کا تذکرہ فرمایا تو خوفِ عدو کی قید ذکر فرمائی: ﴿وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْأَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلَاۃِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط﴾ [النسآء:۴؍۱۰۱] [ ’’ جب تم سفر پر جارہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔ ‘‘ ] الآیۃ۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے