کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 768
اذکان جرہ بغیر الخیلاء قال الامام ابوجعفر محمد بن جریر الطبری وغیرہ وذکر اسبال الازار وحدہ لانہ کان عامۃ لباسہم وحکم غیرہ من القمیص وغیرہ حکمہ قلت وقد جاء ذلک منصوصًا علیہ من کلام رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم من سالم بن عبداللّٰہ بن عمر عن ابیہ رضی اللّٰه عنہم عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم قال اسبال فی الازار والقمیص والعمامۃ من جرشیئا خیلاء لم ینظر ا للّٰه تعالیٰ الیہ یوم القیمۃ رواہ ابو داؤد والنسائی وابن ماجۃ باسناد حسن۔)) [شرح مسلم ؍ للنووی ، ج:۱ ، ص:۷۱] ’’ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد .....المسبل ازارہ .....(یعنی ازار کو زمین پر گھسیٹنے) کا مطلب یہ کہ پاجامہ کو ٹخنوں کے نیچے غرور کی راہ سے لٹکانا جیسے ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہ دیکھے گا جو اپنا کپڑا غرور سے لٹکائے اور یہ غرور کی قید خاص کرتی ہے ازار لٹکانے والے عموم کو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وعید اس کے لیے ہے جو غرور سے لٹکائے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو کپڑا لٹکانے کی رخصت دی اور فرمایا تم ان میں سے نہیں ہو اصل میں ان کا یہ فعل غرور کی راہ سے نہ تھا۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری وغیرہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ازار لٹکانے والے کا ذکر کیا اس لیے کہ اس وقت لوگوں کا تمام لباس ازار ہوتا تھا اور قمیص وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔ اور میں کہتا ہوں اور ایک حدیث میں صاف آیا ہے کہ حضرت سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لٹکا ناازار میں ، قمیص میں ، اور عمامے میں ہوتا ہے۔ اور جو کوئی ان میں کسی کو غرور سے لٹکائے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہ دیکھے گا۔ اس کو ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ نے بسند حسن روایت کیا ہے۔ ‘‘ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ غرورو تکبر کی بناء پر زمین پر سے ازار گھسیٹتے ہوئے چلنا گناہ کبیرہ ہے۔ بعض احادیث سے غرور و تکبر کے بغیر بھی ازار لٹکاتے ہوئے چلنے کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ان احادیث میں غرور و تکبر کی قید سے اس بات پر استدلال کیا گیا ہے کہ اسبال ازار (یعنی ازار لٹکانا) کے گناہ پر مطلق زجر اور وعید والی احادیث کو ان احادیث پر محمول کیا جائے جن میں اسبال ازار کے ساتھ غرور و تکبر کی بھی قید لگائی گئی ہے۔ اس لیے محض لباس زمین پر گھسیٹ کر چلنا یا لباس کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا حرام نہیں ہے ، جبکہ یہ عمل غرور و تکبر کے شائبہ سے پاک ہو۔