کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 767
عذاب ہوگا۔ پوری حدیث اس طرح آئی ہے: (( عن أبی ذر عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم قال ثلاثۃ لا یکلمھم ا للّٰه یوم القیمۃ ولا ینظر الیھم ولا یزکیھم ولھم عذابٌ الیم قال فقرأھا رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ثلاث مرات قال ابو ذر خابوا وخسروا من ھم یا رسول ا للّٰه قال المسبل والمنان والمنفق سلعتہ بالحلف الکاذب۔))[1] ’’ حضرت ابو ذر غفاری روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔ آپ نے یہ تین بار فرمایا، تو حضرت ابوذر غفاری نے کہا برباد ہوئے اور نقصان میں پڑے کون لوگ ہوں گے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک اپنے ازار کو زمین سے گھسیٹنے والا، دوسرا احسان جتلانے والا اور تیسرا اپنا مال جھوٹی قسم کھاکر بیچنے والا۔ ‘‘ مسلم شریف میں مذکورہ باب کے تحت ایک روایت اس طرح آئی ہے: (( عن ابی ذر عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم قال ثلاثۃ لا یکلمھم یوم القیمۃ المنان الذی لا یعطی شیئا إلا منہ والمنفق سلعتہ بالحلف الفاجر والمسبل ازارہ۔)) ’’ حضرت ابوذر غفاری روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین افراد ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا ، ایک احسان جتانے والا کہ جو کسی کو کوئی چیز احسان جتا کر دیتا ہے۔ دوسرا وہ جو اپنا مال جھوٹی قسم کھاکر بیچتا ہے اور تیسرا وہ جو اپنے ازار کو زمین سے گھسیٹتے ہوئے چلتا ہے۔ ‘‘ امام نووی نے ان احادیث کی تشریح میں لکھا ہے: (( وأما قولہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم المسبل ازارہ معناہ المرخی لہ الجار طرفہ خیلاء کما جاء مفسرا فی الحدیث الاخر لا ینظر ا للّٰه الی من جر ثوبہ خیلاء والخیلاء الکبرو ھذا التقیید بالجر خیلاء یخصص عموم المسبل ویدل علی ان المراد بالوعید من جرہ خیلاء وقد رخص النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی ذلک لابی بکر الصدیق وقال لست منہم [1] رواہ مسلم ؍ کتاب الایمان ؍ باب بیان غلظ تحریم اسبال الازار .....ابو داؤد ؍ کتاب اللباس ؍ باب ماجاء فی اسبال الازار ، نسائی ؍ کتاب الزینۃ ؍ باب اسبال الازار