کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 766
بنی لیث فعرفہ ابن عمر فقال سمعت رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم باذنی ہاتین یقول من جرازارہ لا یرید بذالک الا المخیلۃ فان ا للّٰه لا ینظر الیہ یوم القیامۃ۔)) ’’ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی ازار گھسیٹتا تھا انہوں نے پوچھا تو کس قبیلہ کا ہے ؟ اس نے بتایا کہ وہ بنی لیث کا ہے۔ ابن عمر نے اس کو پہچانا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں کانوں سے سنا ہے آپ فرماتے تھے جو شخص اپنی ازار ٹخنوں کے نیچے تکبر کے لیے لٹکائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہ دیکھے گا۔ ‘‘ (( عن ابی ھریرۃ رأی رجلاً یجر ازارہ فجعل یضرب الارض برجلہ وھو امیر علی البحرین وھو یقول جاء الامیر قال رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ان ا للّٰه لا ینظر الی من یجر ازارہ بطرف۔)) ’’ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنی ازار اپنے پاؤں سے زمین پر گھسیٹتے ہوئے جارہا تھا وہ بحرین کا امیر تھا اور کہہ رہا تھا امیر آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا: اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرف نہ دیکھے گا جو اپنی ازار غرور سے لٹکائے۔ ‘‘ (( عن محمد بن عباد بن جعفر یقول امرت مسلم بن یسار مولی نافع بن عبد الحارث ان یسأل ابن عمرو انا جالس بینھما اسمعت من النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی الذی یجر ازارہ من الخیلاء شیئا قال سمعت یقول لا ینظر ا للّٰه الیہ یوم القیامۃ۔)) ’’ حضرت محمد بن عباد بن جعفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مسلم بن یسار کو جو حضرت نافع بن عبدالحارث کے غلام تھے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھنے کے لیے کہا اور میں ان دونوں کے بیچ میں بیٹھا کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس شخص کے بارے میں جو اپنی ازار تکبر سے گھسیٹتے ہوئے چلتا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہ دیکھے گا۔ ‘‘ لباس کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کے سلسلہ میں غرور و تکبر کی قید سے بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ان احادیث میں جس وعید کا ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہی سخت وعید ہے یہاں تک کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ لباس کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے یا زمین پر گھسیٹ کر چلنے والے کو ان تین لوگوں میں شمار کیا گیا ہے۔ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کا تزکیہ کرے گا۔ اور ان کے لیے آخرت میں درد ناک