کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 765
دیکھا تو دریافت فرمایا: کیا تیری ماں نے تجھے یہ کپڑے پہننے کا حکم دیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ: میں انہیں دھوڈالوں ۔ آپؐ نے فرمایا: بلکہ ان کو جلادے۔ ‘‘[1]] س: آدمی ایک وقت میں کتنے سوٹ رکھ سکتا ہے؟ (قاری عبدالرشید ، ملتان) ج: اپنی مالی حیثیت کے پیش نظر جتنے سوٹ مناسب سمجھے رکھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس بندے پر انعامات کرے تو پسند کرتا ہے کہ اس پر انعامات کے آثار دیکھے۔ [اسے امام بخاری نے کتاب اللباس کے شروع میں معلق بیان کیا۔ یہ روایت اپنے شواہد کے ساتھ حسن ہے۔ ] [2] ۲ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: یہ ایک مضمون ماہانہ مجلہ البلاغ انڈیا سے نکلتا ہے جو کہ حضرت مولانا مختار احمد ندوی صاحب کا ہے: اس میں یہ ایک مضمون نظروں سے گزرا مضمون نگار نے احادیث کا خوب اندراج کیا اور مسئلہ کو اچھے انداز میں بیان کیا، لیکن آخر میں تمام مسئلہ پر ہی پانیپھیر دیا جو میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ علماء السلف کا بھی خیال ایسا ہی ہے: کہ البتہ اگر کسی کا ازار بغیر غرور و تکبر کے عادتاً ٹخنے سے لٹکتا ہو وہ وعید کی زد میں نہیں آتا ہے ، نیز پھر اس کو مسئلہ بنانا اور اس پر مطلق حرمت کا فتویٰ صادر کرنا ازروئے شرع درست نہیں ۔ اب مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ جو عادتاً لٹکائے وہ وعید کی زد میں نہیں آتا تو آتا کون ہے؟ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ تکبر سے لٹکاتا ہے یا نہیں اور پھر عادت تو عبادت نہیں اور پھر عبادت بدلی نہیں جاسکتی اور عادت کو تو ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بدلنے آئے تھے اور معاشرے کی کتنی عادتیں آنحضرت نے بدلیں اور یہ کہہ کر کہ یہ عادت ہے اس لیے مسئلہ جائز ہے۔ اور پھر ساری احادیث صحیح بیان کیں ۔ اور عادت کے اوپر کوئی ایک حدیث بیان نہیں کی صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فعل بیان کیا ہے۔ (محمد بشیر الطیب) ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکانے کا مسئلہ امام مسلم نے بھی اس سلسلہ میں کتاب اللباس ؍ باب تحریم جر الثوب خیلاء کے تحت کئی حدیثیں درج کی ہیں : (( عن ابن عمر انہ رأی رجلاً یجر ازارہ فقال ممن انت فانتسب لہ فاذا رجل من [1] صحیح مسلم ؍ کتاب اللباس ؍ باب النہی عن لبس الرجل الثوب المعصفر [2] سنن ترمذی ؍ ابواب الادب ؍ باب ماجاء أن ا للّٰه تعالٰی یحب ان یری اثر نعمتہ علی عبدہ