کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 762
چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی (اہل کتاب کی موافقت میں ) پہلے سر کے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے ، لیکن بعد میں آپ بیچ میں سے مانگ نکالنے لگے۔ ‘‘ ’’ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جیسے میں اب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں احرام کی حالت میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں ۔ ‘‘[1] ’’ بال مسنون طریقے سے رکھنا ہر طرح بہتر ہے ، مگر آج کل فیشن کی وبا چلی ہے ۔ خلاف شرع بال رکھ کر شکلوں کو بگاڑا جاتا ہے یہ حد درجہ گناہ اور خلقت الٰہی کو بگاڑنا اور کفار کے ساتھ مشابہت رکھنا ہے۔ نوجوانانِ اسلام کو ایسی غلط روش کے خلاف جہاد کی سخت ضرورت ہے۔ ‘‘ ] ۳ ؍ ۹ ؍ ۱۴۲۱ھ س: ناخن کس ترتیب سے کاٹے جائیں ؟ (ماسٹر عبدالرؤف) ج: دائیں ہاتھ کی خنصر سے شروع کریں اور بائیں ہاتھ کی خنصر کا ناخن آخر میں کاٹیں ۔ دائیں جانب سے آغاز کا یہی تقاضا ہے۔ ۱۹ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: انگوٹھی امیر کے علاوہ کوئی نہ پہنے روایت کیسی ہے اور عام آدمی انگوٹھی پہن سکتا ہے یا نہیں ؟ (قاسم بن سرور) ج: صحیح بخاری [2]اور صحیح مسلم کی احادیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ امیر کے علاوہ دوسرے بھی چاندی کی انگوٹھی پہن سکتے ہیں ۔ البتہ اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں لکھوا سکتے۔[3]حدیث ’’ انگوٹھی امیر کے علاوہ کوئی نہ پہنے ‘‘ کا حوالہ لکھیں ۔ ۱۳ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: مرد کے لیے ہاتھ اور پاؤں کو مہندی لگانے کا قرآن و حدیث کی روشنی میں کیا حکم ہے؟ (محمد یونس شاکر) ج: نہیں لگاسکتا۔ ابو داؤد میں حدیث موجود ہے۔ ’’ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے پردے کے پیچھے سے اپنا ہاتھ نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک خط بڑھایا۔ پس نبیؐ نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ اور فرمایا: میں نہیں جانتا یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا۔ اس نے کہا: بلکہ یہ عورت کا ہاتھ ہے۔ فرمایا: اگر تو عورت ہے تو تجھے اپنے ناخن تبدیل کرنے چاہئیں تھے۔ یعنی مہندی کے ساتھ۔ ‘‘[4] (مطلب یہ کہ مرد اور عورت کے ہاتھ ممتاز اور مختلف ہوں ۔) ’’ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ نے کہا: اے نبی اللہ! مجھے بیعت فرمائیے۔ نبیؐ نے فرمایا: میں تجھ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب اللباس ؍ بابُ الفَرق [2] بخاری؍کتاب اللباس؍باب خاتم الفضۃ [3] بخاری؍کتاب اللباس؍باب الخاتم فی الخنصر [4] ابو داؤد؍کتاب الترجل باب فی الخضاب للنساء