کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 761
وَنَتْفِ الإِبِطِ ، وَحَلْقِ الْعَانَۃِ أَنْ لاَ نَتْرُکَ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً۔[1] (۱؍۱۲۹) قَالَ النَّوَوِی فِی الشَّرْحِ: وَقَدْ جَائَ فِیْ غَیْرِ صَحِیْحِ مُسْلِمٍ: وَقَّتَ لَنَا رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ۔ [2] ۱ھ )) [’’انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہے آپ نے فرمایا ہمارے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے مونچھیں کاٹنے میں اور ناخن کاٹنے میں اور بغلوں کے بال اکھاڑنے میں اور زیر ناف بال صاف کرنے میں کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں اور امام نووی نے شرح میں فرمایا ہے کہ صحیح مسلم کے علاوہ یہ لفظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مقرر فرمایا۔ ‘‘ ] ۲۹ ؍ ۳ ؍ ۱۴۲۴ھ س: 1۔کیا عورت کا سر وضوء کرنے کے بعد ننگا ہوجائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ واضح کریں ؟ 2۔کیا عورت گھر کے اندر اپنا سر ننگا رکھ سکتی ہے یا نہیں ۔ واضح کریں ؟ 3۔کیا عورت اپنے محرم کے سامنے اپنا سر ننگا کرسکتی ہے؟ (سجاد الرحمن شاکر) ج: 1۔ نہیں ! کتاب و سنت سے ثابت شدہ نواقض وضوء میں عورت یا مرد کے سر کا ننگا کرنا یا ہونا شامل نہیں ۔ 2۔کرسکتی ہے بشرطیکہ وہ پاس نہ ہوں جن سے پردہ ضروری ہے۔ 3۔کرسکتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِھِنَّ ط﴾ [النور:۳۱] [’’ اور اپنی آرائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے سسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے اے مسلمانو! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔ ‘‘ ] ۱۳ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: ٹیڑھی مانگ نکالی جاسکتی ہے۔ کیا اس میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق ہے۔ نیز بچوں اور بچیوں کے حکم کی بھی وضاحت فرمائیں ۔ (عبدالطیف تبسمؔ، اوکاڑہ) ج: نہیں کوئی فرق نہیں ۔ بچوں اور بچیوں کا بھی یہی حکم ہے۔ [ ’’ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کسی مسئلہ میں کوئی حکم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کے عمل کو اپناتے تھے۔ اہل کتاب اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے۔ [1] مسلم؍کتاب الطہارۃ؍باب خصائل الفطرۃ۔ [2] ترمذی؍کتاب الادب؍باب فی التوقیت فی تقلیم الاظفار واخذ الشارب۔