کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 76
﴿وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖ إِلَّا ِبمَا شَآئَ ج وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ وَلَا یَؤْدُہٗ حِفْظُھُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ o﴾ [البقرۃ:۲۵۵] ’’ اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفت ادراک میں نہیں آ سکتی، الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔‘‘ معلوم ہوا کہ ہم اللہ کے بارے میں کوئی علم نہیں پا سکتے الا یہ کہ خود اللہ تعالیٰ ہماری تعلیم کا کوئی انتظام کر دے ۔ ہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفصیلات اور علم آ چکا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ذات اور اپنی صفات کے بارے میں متعارف کرایا ہے۔ چنانچہ ہم انہی اسماء و صفات پر اکتفا کریں گے اور اس ذات پاک کی حمد و ثنا انہی اسماء و صفات کے ذریعے کریں گے ۔ مخلوق سے اللہ تعالیٰ کی کیا مشابہت؟: جب یہ کہا جائے کہ فلاں بادشاہ سخی ہے، اس کا دربان بھی سخی ہے اور اس کا بچہ بھی سخی ہے، ظاہر ہے کہ سننے والا از خود فرق سمجھ لے گا کہ بادشاہ ،دربان، اور بچے کی سخاوت میں کیا فرق ہو سکتا ہے؟ جبکہ مذکورہ بالا مثال میں مذکورہ تینوں افراد انسان ہیں اور پھر جب یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ بہت سخی ہے تو بلاشبہ تمہیں فورًا معلوم ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی سخاوت و عنایت ان کمزور و محتاج بندوں کی طرح تو نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے بارے میں یہی ایک اصول ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا علم بندوں کے علم کی طرح نہیں ہو سکتا، اس کی حکمت و دانائی بھی مخلوق کی دانائی کی طرح نہیں ہو سکتی، اسی طرح اہل ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رحیمانہ برتاؤ اور کافروں سے انتقام مخلوق کی رحمت و انتقام کی طرح نہیں ہو سکتا۔ ان تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ کا اعلی ترین اور باکمال درجہ ہے اور کسے باشد کوئی بھی اس کی مشابہت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے: ﴿لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ ج وَّھُوَ السَّمِیْعُ الْبِصِیْرُ﴾ [الشورٰی:۱۱] ’’کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ، وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘ ہر طرح کی کمی، کوتاہی، نقص یا عیب مخلوق میں ہو سکتے ہیں اور ہر کمال اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے لیے ہے، اور یہ بات صرف اسی کو جچتی اور زیب دیتی ہے۔