کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 756
ج: آپ لکھتے ہیں : ’’ احکام و مسائل ص: ۱۶۱ میں لکھا ہے کہ داڑھی رکھنا بڑھانا فرض ہے۔ فرض کا تارک کیا ہوگا؟ ‘‘ فرض کا تارک مجرم اور گناہ گار ہوگا۔ پھر آپ لکھتے ہیں : ’’ ص: ۳۸۹ میں لکھا ہے کہ داڑھی کٹوانا حرام ہے۔ ‘‘ تو ٹھیک ہے داڑھی کٹوانا واقعی حرام ہے اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم (( أعفوا اللحی۔))[1] کی خلاف ورزی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی حرام ہوتی ہے الا کہ کوئی قرینہ صارفہ ہو اور وہ اس مقام پر نہیں ۔ ۲۴ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۳ھ س: دیکھیں حضرت صاحب بحث اصولی ہوتی ہے کبیرہ گناہ نہ سہی تو کیا حرام کا لفظ کبیرہ سے کم ہے کیا؟ یہ کوئی بات نہیں دیکھیں قتل و زنا حرام ہیں یا حلال ہیں ؟ حرام ہیں تو یہ صغیرہ گناہ ہیں یا کبیرہ ؟ سود حلال ہے یا حرام؟ کیا یہ صغیرہ ہے یا کبیرہ؟ یہ تو خواہ مخواہ والی بات ہے۔ آپ نے حرام تو لکھا ہے نا!! اور یہ لفظ کچھ کم اثرات کا حامل نہیں ہے۔ چلو بہرحال اپنا اپنا دین! اپنے لیے۔ (محمد رشید) ج: آپ لکھتے ہیں : ’’ کبیرہ گناہ نہ سہی ‘‘ اس پر غور فرمائیں کتنا عرصہ بعد آپ نے یہ بات لکھی اور کتنا عرصہ پہلے آپ کو یہ بات لکھنا چاہیے تھی؟ اب کے بھی آپ نے ساتھ ’’ سہی ‘‘ لگادیا۔ مزید لکھتے ہیں : ’’ تو کیا حرام کا لفظ کبیرہ سے کم ہے؟ ہاں کبیرہ گناہ اور حرام میں فرق ہے۔ حرام کا لفظ صغیرہ اور کبیرہ دونوں قسم کے گناہوں پر بولا جاتا ہے، جبکہ کبیرہ گناہ کبیرہ گناہوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ صغیرہ گناہوں پر نہیں بولا جاتا۔ دیکھئے کسی کو ناحق تھپڑ مارنا اور کسی غیر عورت کی طرف دیکھنا حرام ہے۔ کبیرہ گناہ نہیں ۔ تو یہ بھی آپ خلط مبحث سے کام لے رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے ۔ آمین یا رب العالمین۔ ۱۶ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: سفید داڑھی اللہ کو زیادہ پسند ہے یا کہ سفید کو رنگنا زیادہ اچھا ہے؟ (قاری محمد عبداللہ ، لاہور) ج: سراور داڑھی کے بال سفید ہوجائیں تو انہیں رنگ لگانا افضل ہے۔ البتہ سیاہ رنگ لگانا منع اور گناہ ہے۔ مشکاۃ ؍ کتاب اللباس ؍ باب الترجل میں بحوالہ صحیح مسلم لکھا ہے: (( وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أُتِیَ بِأَبِیْ قُحَافَۃَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ ، وَرَأْسُہٗ وَلِحْیَتُہٗ کَالثَّغَامَۃِ بَیَاضًا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم : غَیِّرُوْا ھٰذَا بِشَیْئٍ ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ۔))[2] [ ’’ فتح مکہ کے دن ابو قحافہ کو لایا گیا اور آپ کا سر اور داڑھی ثغامہ کی طرح سفید تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو تبدیل کرو کسی چیز سے اور سیاہی سے بچو۔ ‘‘ ] رہا یہ سوال کہ حدیث میں امر کا لفظ آیا ہے اور امر وجوب کے لیے آتا ہے ، جبکہ اوپر افضل کی بات کی جارہی [1] بخاری؍کتاب اللباس؍باب اعفاء اللحیٰ۔ مسلم؍کتاب الطہارۃ؍باب خصائل الفطرۃ [2] مسلم؍کتاب اللباس؍باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ و حمرۃ و تحریمہ بالسواد