کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 755
غور سے پڑھیں سمجھ آجائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ جو بات آپ کو غلو والی نظر آئی ہے اس کی نشاندہی فرمائیں إن شاء اللہ تعالیٰ اصلاح کرلی جائے گی۔ ۴ ؍ ۹ ؍ ۱۴۲۳ھ س: اپنی کتاب کا صفحہ نمبر:۵۲۶ نکالیں داڑھی کترانا ، منڈانا، خط بنانا، لفافہ بنانا، اوپر نیچے سامنے کسی طرف سے استرے، قینچی وغیرہ سے ٹھپ درست نہیں اور یہ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہے۔ (جو مانگا وہ حاضر ہے اب آپ حکم لگائیں ) سلف پر؟ (صوبیدار محمد رشید) ج: آپ نے اپنے پہلے مکتوب میں لکھا: ’’ بقول آپ اگر داڑھی کا کترانا خط بنانا وغیرہ کبیرہ گناہ ہے تو مندرجہ ذیل ‘‘ الخ اس کے جواب میں اس فقیر إلی اللہ الغنی نے لکھا: ’’ جناب پر لازم تھا کہ میری وہ عبارت نقل کرتے جس میں داڑھی کا کترانا خط بنانا وغیرہ کبیرہ گناہ ہونا مذکور ہے، مگر آپ نے میری وہ عبارت پیش نہیں کی۔ کوئی بات نہیں اب ہی پیش فرمادیں بڑی مہربانی ہوگی۔ ‘‘ اب کے آپ نے اپنے دوسرے مکتوب میں بزعم خود میری وہ عبارت پیش کی ہے جس میں داڑھی کترانے خط بنانے وغیرہ کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے ، مگر آپ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ جناب نے میری کتاب ’’ أحکام و مسائل ‘‘ کے صفحہ نمبر: ۵۲۶ کے حوالہ سے ان امور کے متعلق عبارت نقل کی ہے: ’’ درست نہیں اور یہ حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہے ۔‘‘ جبکہ آپ سے مطالبہ کبیرہ گناہ والی عبارت کا تھا۔ آپ ہی غور فرمائیں درست نہیں حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی اور کبیرہ گناہ ایک ہیں ؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ لہٰذا آپ کا فرمانا: ’’ جو مانگا وہ حاضر ہے۔ ‘‘ بالکل بے جا ہے کیونکہ جو مانگا وہ حاضر نہیں جو مانگا تھا وہ ہے کبیرہ گناہ والی عبارت پیش فرمائیں جو حاضر کیا گیا وہ درست نہیں حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہے۔ آپ اپنے دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں : ’’میری مراد کج بحثی نہیں ہے میں شرح صدر چاہتا ہوں ۔ ‘‘ تو اب آپ خود ہی غور فرمالیں آپ سے مانگا گیا تھا کہ کبیرہ گناہ والی عبارت پیش فرمائیں آپ نے حاضر کی عبارت ’’ درست نہیں حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ آیا یہ کج بحثی ہے یا شرح صدر چاہنے والا معاملہ ہے؟ آپ لکھتے ہیں : ’’ اب آپ حکم لگائیں ، سلف پر ‘‘ تو محترم! اس فقیر إلی اللہ الغنی نے حکم تو اپنی کتاب احکام و مسائل ہی میں لگادیا ہے ، جس کو پڑھ کر آپ نے پہلا مکتوب لکھا اسی کو ایک دفعہ پھر پڑھ لیں ۔ ۲۴ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۳ھ س: أحکام و مسائل ،ص: ۱۶۱ میں لکھا ہے کہ داڑھی رکھنا بڑھانا فرض ہے! فرض کا تارک کیا ہوگا؟ ص: ۳۸۹ میں لکھا ہے کہ داڑھی کٹوانا حرام ہے۔ (صوبیدار محمد رشید)