کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 754
رسائل ومسائل مولانا مودودیؒ داڑھی کٹالینا جائز ہے۔ تفسیر تبیان القرآن مفتی غلام رسول سعیدی داڑھی کٹالینا جائز ہے۔ فیضان سنت ص: ۵۵۸ مولانا محمد الیاس داڑھی کٹالینا جائز ہے۔ محسن انسانیت ص: ۷۴ نعیم صدیقی داڑھی کٹالینا جائز ہے۔ صحیح مسلم شرح نوویؒ ، ص: ۳۸۹ داڑھی کی مقدار کا تعین نہیں ہے۔ امام مالکؒ داڑھی بہت لمبا کرنا مکروہ کہتے ہیں ۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کا عمل دیکھیں نہیں تو فوٹو دیکھ لیں ۔ مسند احمدؒ میں حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جب کوئی بات بتاؤں تو اس پر اضافہ ہرگز نہ کرنا۔ شرع میں غلو کرنے والے ہلاک ہوجائیں ۔ صحیح مسلم بحوالہ افادات ابن تیمیہؒ صحیح مسلم ، جلد اوّل ، ص: ۸۸ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ سوال نہ کیا کرو جیسے سمجھ آئے عمل کرلو۔ شرح نوویؒ مجھے اپنے فیصلے سے مطلع ضرور کرنا۔ کیا اکابرین علم و رَع خشیت میں آپ سے کم ہیں ؟ (صوبیدار(ر) محمد رشید ، تحصیل و ضلع قصور) ج: آپ لکھتے ہیں : ’’ بقول آپ اگر داڑھی کترانا خط بنانا وغیرہ کبیرہ گناہ ہے تو مندرجہ ذیل ‘‘ الخ جناب پر لازم تھا کہ میری وہ عبارت نقل کرتے جس میں داڑھی کا کترانا خط بنانا وغیرہ کبیرہ گناہ ہونا مذکور ہے، مگر آپ نے میری وہ عبارت پیش نہیں کی۔ کوئی بات نہیں اب ہی پیش فرمادیں بڑی مہربانی ہوگی۔ اس سوال کے آخر میں آپ پوچھتے ہیں : ’’ کیا اکابرین علم و ورع خشیت میں آپ سے کم ہیں ؟ ‘‘ نہیں ! یہ اکابرین اور دیگر اکابرین علم و ورع خشیت میں مجھ سے زیادہ اور بہت آگے ہیں ۔ البتہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں میں کم ہیں کیونکہ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تین لفظ آئے ہیں : (( أعلمکم باللّٰہ ، أتقاکم اور أخشاکم لِلّٰہ۔)) [1] [ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ خبردار اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ پرہیزگار ہوں ۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’ اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔ ‘‘ ] [2] اس سوال میں جتنی چیزیں آپ نے پوچھی ہیں ان تمام کا جواب کتاب ’’ أحکام و مسائل ‘‘ میں موجود ہے، ذرا [1] بخاری ؍ کتاب النکاح ؍ باب الترغیب فی النکاح ، مشکوٰۃ ؍ کتاب الایمان ؍ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ الفصل الاوّل [2] بخاری ؍ کتاب الأدب ؍ باب من لم یواجہ الناس بالعتاب ، مسلم ؍ کتاب الفضائل ؍ باب علمہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم وشدۃ خشیتہ