کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 752
بشرطیکہ وہ گناہ شرک نہ ہو تو وہ مجرم و گناہ گار ضرور ہے شرک کا مرتکب نہیں ۔ ۳۰ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: داڑھی کا اوپر نیچے خط کرنا سنت ہے کہ نہیں ؟ علامہ البانی ۴ انگلی سے زیادہ کاٹنے کے حق میں صحابہ سے بھی دلائل دیتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ براہِ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں ۔ (محمد امجد ، میر پور آزاد کشمیر) ج: طول و عرض سے اخذ و تراش والی روایت کمزور ہے امام بخاری .....رحمہ اللہ الباری .....نے عمر بن ہارون کی اس روایت کو بے اصل قرار دیا ہے۔ خود شیخ البانی .....رحمہ اللہ تعالیٰ .....اس کو اپنی تصانیف میں ضعیف و منکر قرار دے چکے ہیں ۔ رہا بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل تو اس سلسلہ میں اصولی بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ مقام نہیں کہ وہ معصوم ہیں خطا ان سے سرزد ہوتی ہی نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مقام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام خطائیں معاف کردی ہیں ۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ ط [آل عمران: ۱۵۲] ﴾[’’ اور بے شک اللہ نے تمہیں معاف کردیا۔ ‘‘ ]حدیث قدسی میں بدریوں رضی اللہ عنہم کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ((اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ قَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ۔)) [1] [ ’’ تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے۔ ‘‘ ] تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ کا قول و عمل دین میں حجت و دلیل نہیں بنتا۔ رہی تفسیر والی بات تو اس سے بھی صحابی رضی اللہ عنہ کے قول اور عمل کا حجت و دلیل ہونا نہیں نکلتا۔ دیکھئے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے قول: ﴿وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا ط [النسآء:۹۳]﴾ [ ’’ اور جو شخص کسی مؤمن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ ‘‘] الآ یہ کی تفسیر فرمائی ہے کہ قاتل بالعمد کی توبہ نہیں ۔ پھر یہی صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : (( إِنَّمَا الْمَآئُ مِنَ الْمَآئِ۔)) [2] [ ’’ پانی سے پانی واجب ہوتا ہے۔ ‘‘ ] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ احتلام کے ساتھ مخصوص تھا۔ نیز ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے قول: ﴿فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ ط [البقرۃ:۲۲۳]﴾ [’’ عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں لہٰذا جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ۔ ‘‘ ] کی ایک مخصوص تفسیر فرمائی تھی۔ اور ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے قول: ﴿لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْا ط [المآئدۃ:۹۳]﴾ [’’ جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے انہیں گناہ نہ ہوگا جو وہ تحریم شراب سے پہلے پی چکے۔ ‘‘ ] الآیہ کی ایک مخصوص تفسیر فرمائی تھی حالانکہ یہ تمام تفسیریں جن کا اوپر ذکر ہوا شیخ البانی رحمہ اللہ اور ان کے ہمنواؤں کے ہاں بھی درست نہیں ۔ جبکہ داڑھی کے معاملہ میں صحابی رضی اللہ عنہ کا صرف عمل ہے انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا یہ عمل حدیث کی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ ۱۲ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۱ھ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب التفسیر ؍ سورۃ الممتحنۃ [2] صحیح مسلم ؍ کتاب الحیض؍باب بیان ان الجماع فی اوّل الاسلام لا یوجب الغسل الا ان ینزل المنی و بیان نسخہ و ان الغسل یجب بالجماع۔